انتظامی افسران کو قیام امن کے لیے ‘فری ہینڈ’ دیتے ہیں، جرائم پیشہ عناصر کا ملکر خاتمہ کریں، وزیراعلیٰ بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت سبی نصیر آباد قومی شاہراہ پر امن و امان کی صورتحال سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر ریونیو میر عاصم کرد گیلو، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل آئی جی، کمشنر، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی آئی جیز نے شرکت کی۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے قومی شاہراہ پر جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مجرموں کے خلاف بھرپور کارروائی کا حکم دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پولیس اور لیویز کی حدود سے بالاتر ہو کر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بلوچستان میں دہشتگرد ایک ایس ایچ او کی مار‘ محسن نقوی نے وہ تذکرہ پھر چھیڑ دیا
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ لیویز اور پولیس مل کر جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع کریں، انتظامی افسران کو قیام امن کے لیے فری ہینڈ دیا جاتا ہے۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کسی حیل و حجت کے بغیر امن و امان یقینی بنانا متعلقہ انتظامی حکام کی ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کے انسداد کے لیے ایف سی اور سی ٹی ڈی سے مؤثر تعاون حاصل کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ رابطہ کاری کا نظام مربوط بنا کر قیام امن کی کوششوں کو نتیجہ خیز بنایا جائے۔ جوائنٹ چیک پوسٹیں قائم کرکے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں اور کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جرائم پیشہ افراد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امن و امان بلوچستان سیکیورٹی قومی شاہراہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان سیکیورٹی قومی شاہراہ جرائم پیشہ کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔