نیکٹا کا نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر منظور
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیرمملکت داخلہ سینیٹر طلال چوہدری کی زیر صدارت نیکٹا کے بورڈ آف گورنرز کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیرمملکت طلال چوہدری کی زیر صدارت نیکٹا کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں نیکٹا کے تحت نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کے قیام کی منظوری دے دی گئی۔ اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیرمملکت داخلہ سینیٹر طلال چوہدری کی زیر صدارت نیکٹا کے بورڈ آف گورنرز کا پانچواں اجلاس منعقد ہوا جس میں نیکٹا کے تحت قائم ہونے والے ادارے نیشنل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹرکی منظوری دی گئی۔
نیکٹا کے بورڈ آف گورنرز کے پانچویں اجلاس میں نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا ڈاکٹر خالد چوہان نے بورڈ ممبران کو بریفنگ دی۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے مکمل سدباب کے لئے متعلقہ اداروں کی مشاورت کے بعد اس ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس ادارے کا قیام نیکٹا کے حقیقی مقاصد کے حصول کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ نیکٹا کی استعداد کار بڑھانے میں موثر کردار ادا کرے گا۔ چاروں صوبائی سیکرٹریز داخلہ بطور ممبر نیکٹا بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں شریک ہوئے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: طلال چوہدری وزیر داخلہ
پڑھیں:
لاہور: پنجاب حکومت کا اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام، معیار تعلیم بلند کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں صوبے میں اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کرنے اور معیار تعلیم بہتر بنانے سمیت مختلف اہم فیصلے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی جانب سے مری کے شہریوں کے لیے بڑی سہولت کا اعلان
اجلاس میں ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی یو)، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) اور لاہور کالج برائے خواتین کو ماڈل تعلیمی ادارے بنایا جائے گا۔
اس موقعے پر بتایا گیا کہ برطانیہ، کوریا، قازقستان سمیت متعدد غیر ملکی یونیورسٹیوں نے پنجاب میں اپنے کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یونیورسٹی آف لندن، برونل یونیورسٹی، گلوسترشائر یونیورسٹی، لیسٹر یونیورسٹی اور دیگر ادارے پنجاب میں برانچ کیمپس کھولنے کے خواہاں ہیں۔
پنجاب کی یونیورسٹیوں میں معیار تعلیم کو بلند کرنے کے لیے ’کے پی آئی سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت وائس چانسلرز کی کارکردگی کو بھی جانچا جائے گا۔ کالجز میں کالج مینجمنٹ کونسلز قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی بہتر ہو سکے۔
وزیراعلیٰ نے انڈر پرفارمنگ کالجز سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کی جبکہ ایجوکیشن ویجی لینس سکواڈ کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ یہ اسکواڈ تعلیمی اداروں میں اچانک دورے کر کے حاضری، صفائی، معیار تعلیم اور دیگر اہم امور کی جانچ پڑتال کرے گا اور رپورٹ کی بنیاد پر فوری کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں پنجاب کی یونیورسٹیوں کو معیار کے لحاظ سے گرین، بلیو، ییلو اور گرے رینکنگ دینے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ پہلی بار پنجاب میں ہائر ایجوکیشن کانفرنس کے انعقاد کی بھی اصولی منظوری دی گئی ہے۔
مزید پڑھیے: پنجاب حکومت نے آٹھویں جماعت کے بورڈ امتحانات بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا
سی ایم پنجاب ہونہار سکالر شپ اور لیپ ٹاپ سکیم کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی جس میں بتایا گیا کہ ملک بھر سے 19 ہزار سے زائد طلبہ نے اس سکیم کے لیے درخواستیں دی ہیں۔
اجلاس میں ہائر ایجوکیشن کا اسٹریٹجک پلان 2025-29 کا جائزہ لیا گیا اور معیار تعلیم، ادارہ جاتی بہتری، گورننس ریفارمز، تدریسی معیار، اختراعی تحقیق، انسانی وسائل کی ترقی، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور عالمی روابط کو ترجیحات میں شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب کے غیر فعال کامرس کالجز سے متعلق بھی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب حکومت تعلیمی ادارے تعلیمی معیار وزیراعلیٰ مریم نواز شریف