ریئر ارتھ ایلیمنٹس کا برآمدی کنٹرول قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم کو ظاہر کرتا ہے،چائنا نان فیرس میٹلز انڈسٹری ایسوسی ایشن
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
بیجنگ :عوامی جمہوریہ چین کے ایکسپورٹ کنٹرول قانون اور دیگر متعلقہ قوانین اور ضوابط کے مطابق وزارت تجارت نے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے ساتھ مل کر ریئر ارتھ ایلیمنٹس سے متعلق کچھ اشیاء کے لئے برآمدی کنٹرول پر ایک اعلان جاری کیا تھا جسے باضابطہ طور پر اجراء کی تاریخ پر ہی نافذ کیا گیا ہے۔اس حوالے سے چائنا نان فیرس میٹلز انڈسٹری ایسوسی ایشن نے 6 اپریل کو کہا کہ ریئر ارتھ ایلیمنٹس سے متعلق اشیاء میں فوجی اور سول سمیت دوہرے استعمال کی خصوصیات ہوتی ہیں اور چینی حکومت نے بین الاقوامی طرز عمل کے مطابق اس پر برآمدی کنٹرول نافذ کیا ہے جو عالمی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے چین کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔چائنا نان فیرس میٹلز انڈسٹری ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ ر یئرارتھ ایلیمنٹس اسٹریٹجک صنعتوں کے لئے کلیدی خام مال ہے جیسے جدید ہتھیار اور سازوسامان، ایرو اسپیس اجزاء، پون بجلی ، نئی توانائی کی گاڑیاں روبوٹکس اور ذہین مینوفیکچرنگ.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔