ہم سٹار لنک کو جلدلائسنس دیدیں گے، عوام کوسٹار لنک نومبر یا دسمبر تک مل جائے گا، وزیر مملکت آئی ٹی
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔07اپریل 2025)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے چیئرمین (پی ٹی اے) میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان کا کہنا ہے کہ سٹار لنک کو ابھی ہم نے عارضی لائسنس دیدیا، تمام مراحل پورا کرنے کے بعد اصل رجسٹریشن دیدی جائیگی، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس امین الحق کی زیرصدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر آئی ٹی اور چیئر مین پی ٹی اے نے بریفنگ دی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ سپیس بورڈ نے سٹار لنک کو عارضی لائسنس دیا ہے۔سٹار لنک کو مکمل لائسنس ان کی ریگولیشنز فائنل ہونے کے بعد دیا جائے گا۔ سٹار لنک کا لائسنس اس وقت تک اجرا ءکے مرحلے میں ہے۔اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے سٹار لنک سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہم سٹار لنک کو جلدلائسنس دے دیں گے۔(جاری ہے)
عوام کوسٹار لنک نومبر یا دسمبر تک مل جائے گا۔چیئرمین قائمہ کمیٹی امین الحق کے پوچھنے پر وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے کہا کہ سٹار لنک کے لائسنس کے معاملے میں کوئی مشکلات نہیں ہیں۔ سیٹلائٹ انٹرنیٹ ایک نئی ٹیکنالوجی ہے اس کے مختلف پہلو دیکھنے والے تھے۔انہوں نے کہا کہ سٹار لنک جون تک تمام چیزیں مکمل کرنے کا کہہ رہا تھا لیکن ہم نے سٹار لنک کو مئی تک کا وقت دیا ہے۔سٹار لنک کی پرائسنگ پر بھی بات ہونی ہے۔ کچھ چینی کمپنیوں نے بھی لائسنس کیلئے اپلائی کیا ہے۔شزہ فاطمہ کااجلاس میں یہ بھی کہنا تھا کہ سٹار لنک کے لائسنس کیلئے کنسلٹنٹ ہائر کیا گیا ہے جو ریگولیشنز فائنل کرنے کیلئے کام کررہا ہے جبکہ ریگولیشنز فائنل ہونے کے بعد سٹار لنک کو دوبارہ لائسنسن کیلئے اپلائی کرنا پڑے گا۔سٹار لنک کا انفرااسٹرکچر لگنے کے بعد نومبر، دسمبر میں اس کی خدمات دستیاب ہوں گی، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہمارے پاس چین کی کمپنی نے بھی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے درخواست دے رکھی ہے۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ کا مزید یہ بھی کہناتھا کہ سپیکٹرم کی نیلامی میں انڈسٹری کی ہیلتھ کو بھی دیکھنا ہے۔ چیئرمین پی ٹی اے خود نیلامی کے عمل کی نگرانی کررہے ہیں۔ ریونیو بھی کمانا ہے لیکن انفراسٹرکچر کو بھی بہتر بنانا ہے۔ یہ بھی کہنا تھا کہ فائیو جی سپیکٹرم کیلئے ٹیلی کام کمپنیوں کو ریلیف فراہم کرنا ہوگا۔ یہ نہ ہو کہ جب فائیو جی شروع ہو تو کمپنیاں دیوالیہ ہو چکی ہوں۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے قائمہ کمیٹی کہ سٹار لنک سٹار لنک کو کے بعد آئی ٹی یہ بھی
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔