اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی ، ڈالر کی قیمت بھی گر گئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
گزشتہ روز کی ریکارڈ مندی کے بعد آج پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ایک مرتبہ پھر مثبت رجحان دیکھنے میں آیا کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کا آغاز شاندار تیزی کے ساتھ ہوا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے باعث مارکیٹ میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہنڈرڈ انڈیکس میں سولہ سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ سولہ ہزار چھے سو دو پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا یہ تیزی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ کاروباری روز اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان غالب رہا تھا اور انڈیکس میں اڑتیس سو بیاسی پوائنٹس کی کمی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں مارکیٹ ایک لاکھ چودہ ہزار نو سو نو پوائنٹس پر بند ہوئی تھی سرمایہ کاروں کی جانب سے آج خریداری کے رجحان میں بہتری دیکھی گئی جس کی وجہ سے مارکیٹ میں استحکام آیا اور انڈیکس نے کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا شروع کیا ادھر انٹربینک مارکیٹ میں بھی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی امریکی ڈالر کی قیمت میں سات پیسے کمی ہوئی جس کے بعد ڈالر دو سو اسی روپے ستاون پیسے سے کم ہو کر دو سو اسی روپے پچاس پیسے پر آ گیا تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مارکیٹ مزید مستحکم ہو سکتی ہے اور روپے کی قدر میں بھی مزید بہتری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔