اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی ، ڈالر کی قیمت بھی گر گئی
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
گزشتہ روز کی ریکارڈ مندی کے بعد آج پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں ایک مرتبہ پھر مثبت رجحان دیکھنے میں آیا کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کا آغاز شاندار تیزی کے ساتھ ہوا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے باعث مارکیٹ میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہنڈرڈ انڈیکس میں سولہ سو سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ سولہ ہزار چھے سو دو پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا یہ تیزی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ کاروباری روز اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان غالب رہا تھا اور انڈیکس میں اڑتیس سو بیاسی پوائنٹس کی کمی ہوئی تھی جس کے نتیجے میں مارکیٹ ایک لاکھ چودہ ہزار نو سو نو پوائنٹس پر بند ہوئی تھی سرمایہ کاروں کی جانب سے آج خریداری کے رجحان میں بہتری دیکھی گئی جس کی وجہ سے مارکیٹ میں استحکام آیا اور انڈیکس نے کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا شروع کیا ادھر انٹربینک مارکیٹ میں بھی روپے کی قدر میں معمولی بہتری دیکھی گئی امریکی ڈالر کی قیمت میں سات پیسے کمی ہوئی جس کے بعد ڈالر دو سو اسی روپے ستاون پیسے سے کم ہو کر دو سو اسی روپے پچاس پیسے پر آ گیا تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مارکیٹ مزید مستحکم ہو سکتی ہے اور روپے کی قدر میں بھی مزید بہتری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔