وسیع معدنی ذخائر اور شفاف پالیسی کے ہوتے ہوئے مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں ، آرمی چیف
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
اسلام آباد:آرمی چیف جنرل سیدعاصم منیرنے کہاہے کہ اقتصادی سلامتی، قومی سلامتی کے ایک اہم جُزو کے طور پر ابھری ہے، پاکستان میں اپ اسٹریم اور ڈاون اسٹریم معدنی صنعتوں کی ترقی کو یقینی بنایا جا ئےگا، پاک فوج اپنے شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کے مفادات اور اعتماد کے تحفظ کے لیے ایک مظبوط سکیورٹی فریم ورک اور فعال اقدامات کو یقینی بنائے گی۔
پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم 2025 سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہاکہ مجھے پختہ یقین ہے کہ پاکستان عالمی معدنی معیشت میں ایک رہنما کے طور پر ابھرنے کے لیے تیار ہے۔ہم بین الاقوامی اداروں کو خوش آمدید کہتے ہیں کہ وہ اپنی مہارت سے پاکستان کو روشناس کرائیں، سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں اور وسائل کی وسیع صلاحیت کی ترقی میں ہمارے ساتھ شراکت داری کریں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معدنیات کی دولت کو اخذ کرنے کے لیے انجینئر، جیالوجسٹ، آپریٹر اور بہت سے ماہر کان کن درکار ہیں اسی لیے ہم اس شعبے کی ترقی کے لیے طلبا کو بیرون ملک تربیت کے لیے بھی بھیج رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت بلوچستان کے 27 پاکستانی طلباء زیمبیا اور ارجنٹینا میں منرل ایکسپلوریشن میں تربیت حاصل کر رہے ہیں،ہمارا مقصد معدنی شعبے کے لیے افرادی قوت، مہارت اور انسانی وسائل پیدا کرنا بھی ہے۔ آرمی چیف نے کہاکہ اقتصادی سلامتی، قومی سلامتی کے ایک اہم جُزو کے طور پر ابھری ہے، پاک فوج اپنے شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کے مفادات اور اعتماد کے تحفظ کے لیے ایک مظبوط سکیورٹی فریم ورک اور فعال اقدامات کو یقینی بنائے گی۔ آرمی چیف نے کہاکہ پاکستان میں اپ اسٹریم اور ڈاون اسٹریم معدنی صنعتوں کی ترقی کو بھی یقینی بنایا جا ئےگا۔ یہ بات اہم ہے کہ لاگت کو بہتر بنانے اور منڈیوں کو متنوع بنانے کے لیے پاکستان میں ریفائننگ اور ویلیو ایڈیشن میں سرمایہ کاری کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی عوام کے پیروں کے نیچے وسیع معدنی ذخائر، ہاتھوں میں مہارت اور شفاف معدنی پالیسی کے ہوتے ہوئے مایوسی اور بے عملی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، آگے بڑھیں، اور جدوجہد کریں ملک کے لیے اور اپنے لیے۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستانی بیک آواز شراکت داروں اور سرمایہ کاروں کو یقین دلاتے ہیں کے کاروبار اور معدنی دولت سے استفادہ کرنے کے کے لیے آپ کی مہارت سے مستفید ہونا ہماری اجتماعی قومی خواہش ہے، آپ پاکستان پر پُر اعتماد پارٹنر کے طور پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ آرمی چیف نے کہاکہ بلوچ قبائلی عمائدین کی کاوشوں کا بھی معترف ہوں جنہوں نے کان کنی کے کاموں کو فروغ دینے اور بلوچستان کی ترقی و پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا، مل کر کام کرنے سے پاکستان کا معدنی شعبہ اجتماعی فائدے کے لیے علاقائی ترقی، خوشحالی اور پائیداری کو فروغ دے سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا رمی چیف نے کہاکہ انہوں نے کہاکہ کے طور پر کے لیے ا کی ترقی
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔