الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے اوورسیز کی ووٹنگ کے لیے دائر درخواستیں خارج کرنے کی استدعا کردی۔

الیکشن کمیشن نے تحریری جواب سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کروا دیا۔

یہ بھی پڑھیں الیکشن کمیشن نے اوورسیز پاکستانیوں کو ای ووٹنگ کی مجوزہ اوپن سہولت کو غیرمحفوظ قراردیدیا

جواب میں کہا گیا ہے کہ درخواستوں میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم چیلنج کی گئی ہے، الیکشن کمشین آئی ووٹنگ کا پائلٹ پراجیکٹ اکتوبر 2018 کے ضمنی انتخاب میں کرچکا۔

جواب کے مطابق پائلٹ پراجیکٹ کی رپورٹ منظوری کے لیے پارلیمنٹ کو پیش کی جا چکی ہے، سپریم کورٹ کے حکم پر پائلٹ پراجیکٹ کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی کروایا گیا۔

الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ رپورٹ کے مطابق آئی ووٹنگ محفوظ ہے نہ ووٹ کی رازداری قائم رہ سکتی ہے۔ پارلیمان کا استحقاق ہے کہ اوورسیز کی ووٹنگ کے لیے کیا طریقہ اپناتی ہے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کی صوابدید ہے کہ اوورسیز کے لیے نشستیں مختص کرے یا پوسٹل بیلٹ کا انتظام کرے۔ پارلیمان چاہے تو اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سفارتخانوں میں ووٹنگ کا قانون بھی بنا سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے استدعا کی ہے کہ الیکشن ترمیمی ایکٹ کے خلاف دائر درخواستیں خارج کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں انتخابات 2024: قیدیوں نے اپنے پسندیدہ امیدواروں کے حق میں ووٹ کیسےکاسٹ کیا؟

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان، شیخ رشید اور وکیل داؤد غزنوی نے اوورسیز کو ووٹ کا حق نہ دینے سے متعلق ترمیم چیلنج کر رکھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews الیکشن ترمیمی ایکٹ الیکشن کمیشن اوورسیز ووٹنگ ای ووٹنگ پارلیمان خارج کرنے کی استدعا سپریم کورٹ صوابدید وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الیکشن ترمیمی ایکٹ الیکشن کمیشن اوورسیز ووٹنگ ای ووٹنگ پارلیمان خارج کرنے کی استدعا سپریم کورٹ صوابدید وی نیوز الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے لیے

پڑھیں:

باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔

اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن