سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی نے چند روز قبل حیدر آباد ، سکھر موٹروے کو ترجیح نہ دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کراچی سکھر موٹروے شروع نہ ہونے تک تمام منصوبے روکنے کا کہا تھا
حیدرآباد ، سکھر موٹروے پر وفاق اور سندھ کے درمیان جاری تنازع میںوزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ کو جوابی خط میں حیدرآباد سکھر موٹر وے کو جلد پی ایس ڈی پی کا حصہ بنانے کی یقین دہانی کرادی

وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو یقین دہانی کروائی ہے کہحیدرآباد ، سکھر موٹروے کی تعمیر جلد شروع کریں گے اور اس حوالے سے سندھ کے تحفظات جائز ہیں۔تفصیلات کے مطابق حیدرآباد ، سکھر موٹروے پر وفاق اور سندھ کے درمیان جاری تنازع سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو جوابی خط لکھ دیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے مراد علی شاہ کو آگاہ کیا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے کو جلد پی ایس ڈی پی کا حصہ بنایا جائے گا۔خط میں مزید کہا کہ ان کی ذاتی توجہ اور دلچسپی ہے کہ حیدرآباد موٹروے جلد تعمیر ہو، موٹروے پر سندھ کے تحفظات جائز ہیں، سکھر موٹروے کی تعمیر جلد شروع کریں گے ۔یاد رہے کہ چند روز قبل، سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی نے حیدر آباد – سکھر موٹروے کو دیگر منصوبوں پر ترجیح نہ دینے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک کراچی سکھر موٹروے شروع نہیں ہوتا، اس وقت تک تمام منصوبے روکیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کی چیئر پرسن سینیٹر قرۃ العین مری کا کہنا تھا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو تحلیل کر دیں اور ہائی ویز صوبوں کے حوالے کر دیں، کراچی سکھر موٹروے کے لیے پیسے نہیں تو لاہور ساہیوال موٹروے پر پیسے کیسے خرچ کر رہے ہیں؟خیال رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 14؍جنوری کو وزیراعظم شہباز شریف کو حیدرآباد – سکھر موٹروے کی تعمیر سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر کہا تھا کہ اس موٹروے کی تعمیر ملک کی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے ۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے نہ ہونے سے اندرون ملک ٹریفک کی روانی دشوار ہو گئی ہے۔خط میں کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) نے اتحادی حکومت ہوتے ہوئے سندھ کے ساتھ ناانصافیوں کی حد کردی، وفاق این ایچ اے بجٹ کا کُل 38 فیصد پنجاب پر خرچ کرے گا، جب کہ سندھ کے لیے صرف 4 فیصد رکھا گیا ہے ۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے ) کے 105 منصوبوں میں سندھ کے صرف 6 منصوبے رکھے گئے جب کہ وفاق نے پنجاب کے لیے نیشنل ہائی وے کی طرف سے 33 منصوبے رکھے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ این ایچ اے نے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں سندھ کے صرف 6 منصوبے رکھے جس کے لیے 4.

34 فیصد رقم مختص کی اور پنجاب کے 33 منصوبوں پر 38.65 فیصد رقم مختص کی۔خط میں مطالبہ کیاگیا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے کے منصوبے کو سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیا جائے ۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سکھر موٹروے کی تعمیر وزیراعظم شہباز شریف حیدرآباد سکھر مراد علی شاہ کہ حیدرآباد موٹروے پر سندھ کے کے لیے تھا کہ

پڑھیں:

آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان

آسٹریلیا نے امریکا اور برطانیہ کے ساتھ ہونے والے آکس دفاعی معاہدے کے تحت جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب امریکی ڈالر (4.6 ارب آسٹریلوی ڈالر) مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا آسٹریلیا کو جوہری آبدوز کے بجائے استعمال شدہ ورجینیا آبدوزیں دے گا

آسٹریلیا کے وزیر دفاع رچرڈ مارلس نے جمعہ کو بتایا کہ یہ رقم جنوبی آسٹریلیا کے شہر اوسبورن میں قائم شپ یارڈ پر خرچ کی جائے گی تاکہ ملک کی مستقبل کی جوہری آبدوزوں کی تیاری، دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے مقامی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آکس معاہدہ درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس پر عملی طور پر کام جاری ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق یہ سرمایہ کاری آسٹریلیا کو اپنی مستقبل کی آبدوزوں کی تیاری، آپریشن، مرمت اور دیکھ بھال کے لیے خودمختار دفاعی صلاحیت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔

آکس معاہدہ کیا ہے؟

آکس معاہدہ 2021 میں آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے درمیان طے پایا تھا جس کا مقصد بحرالکاہل کے خطے میں دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

مزید پڑھیے: سری لنکا میں تاریخی ڈیجیٹل ڈکیتی، وزارت خزانہ آسٹریلیا کو لوٹانے والی رقم سے محروم

اس معاہدے کے تحت امریکا آسٹریلیا کو تین جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں فراہم کرے گا جبکہ بعد ازاں آسٹریلیا اور برطانیہ مل کر سنہ 2040 کی دہائی میں نئی نسل کی جوہری آبدوزیں تیار کریں گے۔

منصوبے پر خدشات بھی برقرار

اگرچہ آسٹریلیا اس منصوبے کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے تاہم اس پر مسلسل سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور برطانیہ میں آبدوزوں کی سست رفتار پیداوار کے باعث خدشہ ہے کہ آسٹریلیا کو مطلوبہ وقت پر یہ آبدوزیں دستیاب نہیں ہو سکیں گی۔

اخراجات میں مزید اضافہ

آکس معاہدہ آسٹریلیا کی تاریخ کا سب سے مہنگا دفاعی منصوبہ تصور کیا جا رہا ہے جس پر آئندہ 30 برسوں میں تقریباً 250 ارب امریکی ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔

ابتدائی منصوبے کے مطابق آسٹریلیا کو امریکا سے 2 استعمال شدہ اور ایک نئی جوہری آبدوز ملنی تھی تاہم مئی 2026 میں اس منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ تینوں آبدوزیں امریکی بحریہ میں پہلے سے زیر استعمال جہازوں میں سے فراہم کی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: پاکستانی طلبا آسٹریلیا کی اسکالرشپ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نیا انتظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ کم لاگت اور عملی ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آسٹریلیا کا جوہری آبدوزوں کا منصوبہ آکس معاہدہ آسٹریلیا امریکا برطانیہ

متعلقہ مضامین

  • ٹانک: پولیس چیک پوسٹ پر خوارج کا بزدلانہ حملہ، 15 بہادر جوان شہید، جوابی کارروائی میں 12 دہشتگرد ہلاک
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثر کو بہتر بناسکتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر ‘اسکائی 47 قراقرم ون’ کا افتتاح کر دیا
  • آسٹریلیا نے جوہری آبدوزوں کے منصوبے کے لیے مزید 3.2 ارب ڈالر مختص کردیے، آکس معاہدے پر عملدرآمد تیز کرنے کا اعلان
  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم