موسمیاتی تبدیلی، چترال میں برف پگھلنے اور بارشوں سے سیلابی صورتحال میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
سیلاب کے باعث گھر مکمل تباہ ہوگئے جبکہ اپر چترال کا یارخون بروغل روڈ مختلف مقامات سے بند ہوگیا، لوگوں کو آمدروفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث اپریل کے مہینے میں اپر چترال میں برف پگھلنے اور بارشوں سے سیلابی صورتحال میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ سیلاب کے باعث گھر مکمل تباہ ہوگئے جبکہ اپر چترال کا یارخون بروغل روڈ مختلف مقامات سے بند ہوگیا، لوگوں کو آمدروفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اپر چترال یار خون بورغل روڈ پتھر اور برف کے تودے گرنے کی وجہ سے گزشتہ کئی دنوں سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل بند ہے۔ یارخون کے غیراروم نالے میں سیلاب آنے سے ایک گھر مکمل تباہ اور کئی ایکڑ زرعی زمین کو نقصان پہنچا۔ سیلاب سے متاثرہ گھر کے افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اہلیان علاقہ کا کہنا ہے کہ بالائی یارخون اور بروغل اَپر چترال میں اشیائے خورونوش، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کی شدید قلت ہے، یار خون اپر چترال میں قحط پڑنے کا خدشہ ہے۔ ایک طرف پورا اپر یار خون بروغل کا علاقہ برف کی لپیٹ میں ہیں تو دوسری طرف ندی نلوں میں سیلاب نے لوگوں کی زندگی بری طرح متاثر کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چترال میں
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔