مذاکرات ہو رہے، کس سے ہو رہے یہ فریقین ہی بتا سکتے ہیں. شیخ رشید
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
راولپنڈی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 اپریل ۔2025 )سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ مذاکرات ہو رہے ہیں، کس سے ہو رہے ہیں یہ تو فریقین ہی بتا سکتے ہیں راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا ہے کہ حالات بہتر ہونے چاہئیں اور ملک کو آگے جانا چاہیے عام آدمی کے حالات بہتر ہونے چاہئیں.
(جاری ہے)
شیخ رشید سے سوال کیا گیا کہ بجلی کی قیمتوں میں عوام کو بڑا ریلیف دیا گیا اپ کیا کہتے ہیں جس پر انہوں جواب دیا کہ اس کے بارے میں سنا ہے اور مزید کوئی بات کئے بغیر روانہ ہو گئے اس موقع پر سابق ڈپٹی اسپیکر واثق قیوم نے صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے مقدمات کا ٹرائل مکمل ہونا چاہیے، حقائق سامنے آنے چاہییں.
مقدمات میں 35 ہزار سے زائد کارکنوں کو شامل کیا گیا بعد میں مزید کارکنوں کو شامل کیا گیا میں سمجھتا ہوں کہ 4ماہ میں ٹرائل مکمل ہونا چاہیے، سب کچھ سامنے آنا چاہیے ابھی تک مقدمات کی باقاعدہ سماعت بھی شروع نہیں ہوئی 2 سال ہو گئے ہیں عدالتوں میں پیش ہوتے ہوئے. انہوں نے کہا کہ 9 مئی کیسز میں وعدہ معاف گواہ نہیں ہوں نہ ہی اس حوالے سے پولیس کو کوئی بیان دیا ہے عدالت میں درخواست اور اپنا بیان جمع کرا دیا ہے کہ 9 مئی کسی کیس میں گواہ نہیں ہوں 9مئی کے کسی مقدمے میں تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کے خلاف پولیس یا کسی عدالت بیان نہیں دیا. بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وکیل صفائی فیصل ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ آئندہ تاریخ 16 اپریل کو گواہ نہ آئے تو جیل ٹرائل پھر بھی نہیں ہوگا وکلائے صفائی کی پوری ٹیم موجود ہے، گواہ نہیں آرہے انہوں نے کہا کہ ہم نے 9 مئی کے تمام مقدمات کو یکجا کرنے کی درخواست دائر کر رکھی ہے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ہم عمران حان کی موجودگی میں دلائل دینا چاہتے ہیں.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہ ہو رہے مئی کے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔