بنگلہ دیشی حکام نے مفرور سابق وزیراعظم حسینہ واجد کی بھانجی، برطانوی رکن پارلیمنٹ اور سابق لیبر وزیر ٹیولپ صدیق کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کا اینٹی کرپشن کمیشن (اے سی سی) ان الزامات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ ٹیولپ صدیق نے اپنی خالہ شیخ حسینہ کی حکومت کی وسیع تر تحقیقات کے حصے کے طور پر غیر قانونی طور پر زمین حاصل کی تھی، جنہیں اگست میں وزیر اعظم کے عہدے سے معزول کر دیا گیا تھا۔

اے سی سی ان دعوؤں کی تحقیقات کر رہا ہے کہ حسینہ واجد اور ان کے اہل خانہ نے بنگلہ دیش میں بنیادی ڈھانچے پر خرچ ہونے والے 3 ارب 90 کروڑ پاؤنڈز کی خورد برد کی۔

ٹیولپ صدیق جولائی 2024 میں لندن کے ہیمپسٹیڈ اور ہائی گیٹ حلقے سے رکن پارلیمنٹ (ایم پی) بنیں۔

انہوں نے جولائی 2024 سے جنوری 2025 میں اپنے استعفے تک وزیر خزانہ اور شہری وزیر کی اقتصادی سیکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

ٹیولپ صدیق کے وکلا نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات ’سیاسی محرکات‘ پر مبنی ہیں۔

وکیل نے مزید کہا کہ ’اے سی سی‘ نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا اور نہ ہی ٹیولپ صدیق کو وارنٹ گرفتاری کے بارے میں آگاہ کیا۔

برطانیہ کا بنگلہ دیش کے ساتھ حوالگی کا معاہدہ ہے لیکن بنگلہ دیش کو وزرا اور ججز کے فیصلہ کرنے سے پہلے حوالگی کی کسی بھی درخواست کی حمایت میں ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔

حسینہ واجد کے اہل خانہ کے خلاف ’اے سی سی‘ کی تحقیقات ان کے سیاسی مخالف بوبی حجاج کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے بعد شروع کی گئی تھیں۔

بی بی سی کو ملنے والی عدالتی دستاویزات کے مطابق حجاج نے ٹیولپ صدیق پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے 2013 میں روس کے ساتھ ایک معاہدے میں مدد کی تھی، جس سے بنگلہ دیش میں ایک نئے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی قیمت میں اضافہ ہوا تھا۔

بی بی سی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں ٹیولپ صدیق کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ الزامات ’مکمل طور پر جھوٹے‘ ہیں۔

اے سی سی نے صدیق کو کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی براہ راست یا ان کے وکلا کے ذریعے ان پر کوئی الزام لگایا ہے۔

وکیل کے مطابق ٹیولپ صدیق کو ڈھاکا میں اے سی سی کی سماعت کے بارے میں علم تھا نہ ہی کسی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ ان کے خلاف الزام عائد کرنے کی کوئی بنیاد نہیں اور کسی بھی الزام میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ انہوں نے ڈھاکا میں غیر قانونی طریقوں سے زمین کا پلاٹ حاصل کیا تھا۔

ٹیولپ صدیق کے پاس بنگلہ دیش میں کبھی زمین کا کوئی پلاٹ نہیں تھا، اور انہوں نے کبھی بھی اپنے فیملی ممبرز یا کسی اور کو زمین کی الاٹمنٹ کے لیے اثر و رسوخ استعمال نہیں کیا۔

اے سی سی کی طرف سے ٹیولپ صدیق کے خلاف لگائے گئے اس یا کسی اور الزام کی حمایت میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا اور یہ واضح ہے کہ الزامات سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ٹیولپ صدیق کے حسینہ واجد بنگلہ دیش انہوں نے اے سی سی

پڑھیں:

ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری

اسلام آباد:ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کابینہ کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں کا اہم اجلاس وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ادویات کی قیمتوں اور ان کی دستیابی سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری قومی صحت، چیف ایگزیکٹو آفیسرڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور وزارتِ خزانہ و تجارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ڈریپ نے نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ درخواستوں، قیمتوں سے متعلق مختلف معاملات اور ضروری ادویات کی مارکیٹ میں دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور مختلف سفارشات پیش کی گئیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق تمام فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی، مشاورتی عمل اور وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ایک متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ ایک جانب مریضوں کو ضروری ادویات مناسب قیمت پر دستیاب رہیں اور دوسری جانب ادویہ ساز صنعت کی پائیدار پیداوار اور فراہمی بھی متاثر نہ ہو۔

محمد اورنگزیب نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق کیے جانے والے فیصلوں اور ان کی وجوہات سے عوام کو بروقت اور واضح انداز میں آگاہ کیا جائے، تاکہ کسی بھی ممکنہ فیصلے کے پس منظر اور مقاصد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق کابینہ کمیٹی کی سفارشات اور ڈریپ کی تجاویز کی روشنی میں آئندہ دنوں میں ادویات کی قیمتوں سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں، تاہم حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوامی مفاد اور مریضوں کی سہولت کو ہر صورت ترجیح دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ