کراچی: چیئرمین کی عدم تعیناتی، انٹر کے امتحانات میں تاخیر کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
— فائل فوٹو
کراچی انٹر بورڈ میں چیئرمین کی عدم تعیناتی سے امتحانات تاخیر سے ہونے کا خدشہ ہے۔
سندھ حکومت نے مصباح تنیو کو چیئرمین انٹر بورڈ کراچی تعینات کیا تھا، تاہم انہوں نے چارج لینے سے معذرت کر لی تھی۔
اس سے قبل چیئرمین میٹرک بورڈ شرف علی شاہ کو چیئرمین انٹر بورڈ کا اضافی چارج دیا گیا تھا۔
کراچی اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے انٹرمیڈیٹ.
خیال رہے کہ سندھ بھر میں 28 اپریل سے گیارہویں و بارہویں جماعت کے امتحانات کا آغاز ہونا ہے لیکن کراچی بورڈ میں چیئرمین کی عدم تعیناتی سے انتظامی و امتحانی معاملات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق کراچی کے طلباء کو تاحال امتحانی شیڈول اور نہ ہی ایڈمٹ کارڈ فراہم کیے جا سکے ہیں۔
بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی بھر میں انٹر بورڈ کے امتحانی مراکز کا بھی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔
ذرائع کے مطابق گیارہویں جماعت کے طلباء کو اضافی نمبر دینے کے فیصلے پر بھی عمل نہیں ہو سکا، حکومتِ سندھ نے طلباء کو اضافی نمبرز دینے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔
نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اضافی نمبرز دینے کا پروسیس کم ازکم 25 دن کا ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ پولیس فورس کی بنیاد معیاری افرادی قوت اور انسانی وسائل پر ہوتی ہے، عوام کا تحفظ، انصاف کی فراہمی اور خلوصِ دل سے خدمت پولیس کا مقصد ہے، پولیس کی وردی جوانوں کے لیے اعزاز بھی ہے اور ایک بڑا امتحان بھی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ صوبے کے عوام اور حکومت کی نظریں پولیس فورس پر مرکوز ہیں، کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے ڈائٹ چارجز بڑھانے کی منظوری محکمہ فنانس میں زیر التوا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ گریڈ ایک سے گریڈ 16 کے ٹرینرز کا الاؤنس 3 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جائے اور گریڈ 17 سے 21 کے افسران کا ٹریننگ الاؤنس 5 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے کیا جائے، رزاق آباد، سکرنڈ اور حیدرآباد کے مراکز کو پولیس ٹریننگ اسکول کا درجہ دیا جائے۔