بعض عناصر بلوچستان کی آگ کو گلگت بلتستان تک لے آنا چاہتے ہیں، کاظم میثم
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
اپوزیشن لیڈر جی بی اسمبلی کاظم میثم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر اعجاز پر چارج شیٹ گلگت بلتستان کے بیٹے کی زبان بندی کی کوشش ہے، حقوق لیے آواز بلند کرنے والے ہی اصل تعلیم یافتہ اور باشعور ہے، شعور سے ہمیشہ حکومت خوف کھاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اپوزیشن لیڈر جی بی اسمبلی کاظم میثم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر اعجاز پر چارج شیٹ گلگت بلتستان کے بیٹے کی زبان بندی کی کوشش ہے، حقوق لیے آواز بلند کرنے والے ہی اصل تعلیم یافتہ اور باشعور ہے، شعور سے ہمیشہ حکومت خوف کھاتا ہے، پڑھے لکھے دیانتدار ڈاکٹر پر دباو ڈال کر جی بی کے عوام کے ذہنوں میں زہر انڈیلا جا رہا ہے، بعض عناصر بلوچستان کی آگ کو گلگت بلتستان تک لے آنا چاہتے ہیں، انکا راستہ روکنا حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض بدخواہوں کی نگاہ میں گلگت بلتستان کا ہر شہری برا ہے، اسی مزاج نے بلوچستان کو آگ کے دہانے پر پہنچایا ہے، گلگت بلتستان کے افسران کو ویسے بھی دیوار سے لگایا جارہا ہے ایسے میں یہ اقدام جلتی پر تیل کا کام کرے گا۔ دیانت اور شفافیت کے ساتھ اہلیت دیکھیں تو پاکستان کے کسی صوبے کا گلگت بلتستان کے افسران سے مقابلہ ہی نہیں، گلگت بلتستان کے پروفیشنلز کے ڈھنکے پوری دنیا میں بجتے ہیں جبکہ دیگر صوبوں کو دیکھیں تو لگتا ہے ہم فلمی دنیا میں ہیں، سندھ اور بلوچستان کو دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا کہ ہمارے افسران کہاں کھڑے ہیں، میرے شہری اور افسران کی تذلیل کرکے کوئی یہ نہ سوچیں کہ انکو کہیں سے عزت ملے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔