عمران خان سے ملاقات نہ کروانے کا معاملہ ایک بار پھر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
عمران خان سے ملاقات نہ کروانے کا معاملہ ایک بار پھر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 18 April, 2025 سب نیوز
اسلام آ باد(آئی پی ایس) بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات نہ کروانے کا معاملہ ایک بار پھر اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف شبلی فراز اڈیالہ جیل حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے جہاں پی ٹی آئی رہنما بائیومیٹرک تصدیق کروانے کے بعد باقاعدہ طور پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔
واضح رہے کہ عمر ایوب اور شبلی فراز کی جانب سے اس سے قبل بھی توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ کے آرڈر کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی گئی، تاہم توہین عدالت کی پہلی درخواست سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو سکی تھی۔
اس موقع پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچی ہیں۔ ان کے علاوہ تحریک تحفظ آئین کے رہنما اخونزادہ حسین بھی ہائیکورٹ پہنچ گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ ہائیکورٹ پہنچ
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔