گرینڈ ہیلتھ الائنس کے احتجاجی ملازمین کی وزیراعلیٰ ہاﺅس جانے کی کوشش،پولیس کا مظاہرین پر واٹرکینن کا استعمال
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔18اپریل 2025)لاہور کے مال روڈ پر گرینڈ ہیلتھ الائنس کے احتجاجی ملازمین کی وزیراعلیٰ ہاﺅس جانے کی کوشش، پولیس نے مظاہرین کو روکنے کیلئے واٹر کینن کااستعمال کرتے ہوئے آگے بڑھنے سے روک دیا، مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم، گرینڈ ہیلتھ الائنس کا پنجاب اسمبلی کے دھرنا آج بھی جاری رہا،صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب گرینڈ ہیلتھ الائنس کے احتجاجی ملازمین نے وزیراعلیٰ ہاﺅس جانے کی ضد کی ۔
پولیس نے احتجاجی ملازمین کو آگے نہ بڑھنے کی ہدایات کیں لیکن احتجاجی مظاہرین نعرے بازی کرتے ہوئے وزیراعلیٰ ہاﺅس کی طرف جانے لگے جنہیں روکنے کیلئے پولیس نے گرینڈ ہیلتھ الائنس کے احتجاجی ملازمین پر واٹرکینن کا استعمال کئے جس سے مظاہرین منتشر ہوگئے اس موقع پر پولیس اور گرینڈ ہیلتھ الائنس کے مظاہرین کے درمیان شدید ہاتھا پائی اور تلخ کلامی بھی ہوئی ۔(جاری ہے)
یاد رہے کہ گرینڈ ہیلتھ الائنس کا مراکز صحت کی نجکاری کیخلاف لاہور کے مال روڈ پر احتجاجی دھرنا کئی روز سے جاری تھا۔ مطالبات کا کہنا تھا کہ ہمارے مطالبات منظور ہونے تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا اور اس کیلئے ہمیں مہینو ں بھی بیٹھنا پڑا تو ہم اس کے لئے تیار تھے۔ حکومت ہزاروں خاندانوں کے معاشی قتل کا فیصلہ واپس لے۔مظاہرین کایہ بھی کہنا تھا کہ مراکز صحت کی نجکاری سے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہری طبی سہولیات سے محروم ہو جائینگے۔انہوں نے تنبیہ کی کہ نجکاری کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو بھرپور احتجاج کیا جائیگا۔گرینڈ ہیلتھ الائنس کے احتجاجی مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا تھاکہ معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کیلئے گرینڈ ہیلتھ الائنس سے فوری طور پر مذاکرات کیے جائیں اور انکے تحفظات کا ازالہ کیا جائے ۔لاہور کے چیئرنگ کراس چوک احتجاجی مظاہرین کی جانب سے بند ہونے کی وجہ سے ملحقہ شاہراہوں پر ٹریفک کا دباﺅ رہا تھا ٹریفک کا نظام درہم برہم رہاتھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔