کانگریس صدر نے کہا کہ وقف املاک کو تنازعہ میں ڈالنے کیلئے مودی حکومت نے جان بوجھ کر صارفین کے ذریعہ وقف کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ پارٹی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے اعلیٰ لیڈروں کے خلاف کی جا رہی کارروائی سے ڈرنے والی نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ وقف (ترمیمی) قانون پر بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت کے خلاف جاری لڑائی میں جیت جائے گی۔ پارٹی کے جنرل سکریٹریز اور انچارجز کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ملکارجن کھرگے نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ذریعہ ایکٹ پر اٹھائے گئے نکات کو اہمیت دی ہے اور الزام لگایا کہ حکومت نے جان بوجھ کر جائیدادوں پر تنازعہ پیدا کرنے کے لئے صارف کے ذریعہ وقف کا مسئلہ اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے حکومت کے وقف (ترمیمی) بل کے خلاف پوری اپوزیشن کو اکٹھا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ابھی اس کیس کی سماعت کر رہی ہے، ہمیں یقین ہے کہ ہم یہ لڑائی بھی جیت جائیں گے۔ کانگریس نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اٹھائے گئے نکات کو اہمیت دی ہے۔ انہوں نے بی جے پی اور مرکزی حکومت پر وقف کے مسئلہ پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خاص طور پر وقف املاک کو تنازعہ میں ڈالنے کے لئے حکومت نے جان بوجھ کر صارفین کے ذریعہ وقف کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے سابق سربراہان سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کا نام انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ چارج شیٹ میں شامل کیا گیا اور دہلی، لکھنؤ اور ممبئی میں نیشنل ہیرالڈ کی جائیدادوں کو "انتقامی جذبے" کے تحت منسلک کیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کے ذریعہ انہوں نے کے خلاف

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن