راولپنڈی میں 60 سالہ خاتون کا قتل، فائرنگ کے بعد زخمی حالت کی وڈیو سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, April 2025 GMT
تھانہ روات کے علاقے میں مسلح کار سواروں نے فائرنگ کرکے 60 سالہ خاتون کو قتل کر دیا جب کہ فائرنگ کے بعد زخمی حالت کی وڈیو سامنے آگئی۔
پولیس کے مطابق مسماتہ مسرت بی بی پراپرٹی کا کاروبار بھی کرتی تھی اور اراضی و پراپرٹی کی بھی مالکن تھی، تین مرد اور ایک خاتون نے مقتولہ کو فارم ہاؤس خریدنے کے لیے سائٹ دکھانے کا کہہ رکھا تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتولہ کے ملزمان کے ساتھ زمین کی خرید و فروخت کے سلسلہ میں روابط تھے۔ مقتولہ مسرت بی بی اپنے گھر سے ملزمان کے ساتھ زمین دکھانے آئی تھیں کہ چک بیلی روڈ پر ملزمان نے فائرنگ کر کے قتل کیا۔
ملزمان کی تلاش جاری ہے جبکہ لاعش کو پوسٹمارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
سی پی او سید خالد ہمدانی نے نوٹس لیتے ہوئے ایس پی صدر سے رپورٹ طلب کر لی اور ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دے دیا۔
واقعے کی اطلاع پر سینئر افسران موقع پر پہنچ گئے، جائے وقوعہ سے شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں۔
ایس پی صدر محمد نبیل کھوکھر کے مطابق واقعے کی تمام زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔
فائرنگ کے بعد سڑک کنارے کھیت میں زخمی حالت میں خاتون کی وڈیو سامنے آگئی۔
ویڈیو میں خاتون کو زخمی حالت میں زمین پر تکلیف سے کراہتے دیکھا جاسکتا ہے، ویڈیو میں چند افراد بھی قریب کھڑے دیکھے جاسکتے ہیں۔
موجود افراد زخمی خاتون کو ہسپتال پہنچانے کے بجائے قریب کھڑے رہتے ہیں، خاتوں کے زخمی حالت میں ہونے اور جان بچانے کے لیے کوشش نہ کرنے پر شہریوں کی جانب سوشل میڈیا پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ترجمان ریسکیو 1122 نے کہا کہ خاتون کو ریسکیو 1122 کے ریسکیوئرز نے ہی ابتدائی طبی امداد فراہم کرکے اسپتال منتقل کیا، جگہ فاصلے پر ہونے کے باعث ریسکیو ٹیم اطلاع ملنے کے بعد 10 سے 12 منٹ کے اندر موقع پر پہنچ گئی تھی۔
ترجمان ریسکیو 1122 نے بتایا کہ خاتون کو اسپتال شفٹ کیا جارہا تھا کہ وہ دم توڑ گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔