آئیے ایسا پاکستان تعمیر کریں جو علامہ اقبالؒ کے خوابوں کی تعبیر ہو : بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 20th, April 2025 GMT
کراچی(این این آئی)پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کو ان کی برسی کے موقع پر شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک عظیم مفکر تھے جنہوں نے قوم کو بالائے حدود خواب دیکھنے، عوام کی طاقت پر یقین رکھنے اور اجتماعی جدوجہد کی قوت کو سمجھنے کا درس دیا۔ میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ علامہ اقبالؒ نے ایک ایسی قوم کا تصور پیش کیا جو خود شناسی (خودی)، رواداری، اور سماجی انصاف جیسے اصولوں پر قائم ہو، اور یہ ہی اقدار پیپلز پارٹی کے نظریئے اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی قربانیوں میں گہرائی سے جھلکتے ہیں۔
6 کینالز منصوبےکیخلاف دھرنے میں پی ٹی آئی کی شرکت ، حلیم عادل شیخ نے پیپلز پارٹی کو نشانے پر لے لیا
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ ہر پاکستانی اور خصوصاً نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو علامہ اقبالؒ کی تعلیمات سے منسلک کریں، جو تنقیدی سوچ، ہمدردی اور جرأت کی تلقین کرتی ہیں تاکہ ایک بہتر مستقبل کی راہ ہموار کی جا سکے۔ آج جب ہمیں معاشی مشکلات اور قومی وحدت کو لاحق خطرات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے تو ایسے حالات میں ہمیں علامہ اقبالؒ کے پیغام کی روح کو تازہ کرنا ہوگا، تاکہ ہم ایک متحد اور باہمت قوم کی صورت میں ابھریں۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں قوم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئیے صرف الفاظ میں ہی نہیں بلکہ ہم جمہوریت، مساوات اور ترقی کے لیے کھڑے ہو کر علامہ اقبالؒ کو عملی طور بھی خراج عقیدت پیش کریں ۔ آئیے ہم ایسا پاکستان تعمیر کریں جو اقبال کے خوابوں کی تعبیر ہو اور جو ہماری آنے والی نسلوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرے۔
پاکستان کے لیے دوبارہ کھیلنا میرا ہدف ہے ، دھواں دار بیٹر صاحبزادہ فرحان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری علامہ اقبال
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔