سیاسی جماعتوں کو پرامن احتجاج کا آئینی حق حاصل ہے تاہم عوام کا خیال رکھا جائے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کینال کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو پرامن احتجاج کا آئینی حق حاصل ہے، مودبانہ گزارش ہے کہ احتجاج ایسے کریں کہ عوام کو پریشانی نہ ہو۔
سندھ کے سینئر وزیر برائے اطلاعات و ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ مظاہرے، جلسے، جلوس یا جو بھی جماعت احتجاج کرنا چاہتی ہے، وہ حکومت کو مطلع کرکے کھلے میدانوں یا ایسی جگہوں پر احتجاج کرے جہاں عوام کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج اور اختلاف رائے ہر جمہوریت کی روح ہوتا ہے، مگر احتجاج ایسا نہ ہو کہ وہ عوام کے لیے باعث پریشانی ہو، جو مویشی اور لائیو اسٹاک ٹرانسپورٹ ہو رہے ہیں سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے ان کے خوراک کے بھی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام اس وقت مختلف چیلنجز کا شکار ہیں، ہر تنظیم اور گروپ سے مودبانہ گزارش ہے کہ سڑکیں بند نہ کریں، اس طرح احتجاج کیا جائے کہ عوام کی جان و مال محفوظ رہے اور ان عام شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات یا پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو اسپتال جانے والے مریضوں، اسکول جانے والے بچوں یا روزگار کے لیے نکلنے والے افراد کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو سٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔