بہاولپور: چرواہوں نے نایاب نسل کے انڈین سرمئی بھیڑیے کو ہلاک کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور کے نواحی علاقے میں نایاب اور تحفظ شدہ نسل کے انڈین گرے وولف (بھارتی سرمئی بھیڑیا) کو مقامی افراد نے بے دردی سے ہلاک کر دیا۔
ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجرز سید علی عثمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مقامی چرواہوں نے بھیڑیے کا پتہ لگایا، اس کا تعاقب کیا اور آخرکار اسے مار ڈالا۔
اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجرز رحیم یار خان نے بھیڑیے کی لاش تحویل میں لے کر کارروائی شروع کر دی ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا گیا ہے اور رپورٹ کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔ وائلڈ لائف حکام کا کہنا ہے کہ مجرموں کی شناخت کے بعد ان کے خلاف پنجاب پروٹیکٹڈ ایریاز ایکٹ 2020 (ترمیم شدہ 2025) کے تحت مقدمہ درج کیا جائے گا۔
انڈین گرے وولف برصغیر میں پایا جانے والا ایک نایاب اور خطرے سے دوچار جانور ہے جو پاکستان، بھارت اور ایران کے خشک و نیم صحرائی علاقوں میں رہتا ہے۔ سائز میں نسبتاً چھوٹا اور رنگت میں سرمئی یہ بھیڑیا عام طور پر انسانوں سے دور رہتا ہے، تاہم خوراک کی قلت یا خطرے کے وقت آبادی کے قریب آ سکتا ہے۔ پاکستان میں اس کی آبادی مسلسل کم ہو رہی ہے جس کی بڑی وجوہات غیر قانونی شکار، قدرتی مسکن کی تباہی اور انسانوں سے بڑھتا ہوا ٹکراؤ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں چرواہے ان جانوروں کو اپنے مویشیوں کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ پنجاب وائلڈلائف مینجمنٹ بورڈ کے ممبر اور وائلائف کنرویٹر بدرمنیر نے بتایا مقامی لوگ اکثر شکایت کرتے ہیں کہ بھیڑیا بکریوں، بھیڑوں یا دیگر پالتو جانوروں پر حملہ کر کے نقصان پہنچاتا ہے جس کے باعث وہ اسے مارنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا انڈین گرے وولف کا اصل کردار ماحولیاتی نظام میں متوازن شکاری کے طور پر ہوتا ہے اور یہ صرف اس وقت انسانوں کے قریب آتا ہے جب اس کے مسکن میں خلل ڈالا جائے یا اسے خوراک نہ ملے۔
جنگلی حیات کے تحفظ کے کارکنوں نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نایاب نسل کے اس جانور کی ہلاکت نہ صرف ایک قیمتی جاندار کے نقصان کا باعث ہے بلکہ یہ ماحولیاتی توازن کے لیے بھی خطرناک ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انڈین گرے وولف جیسے تحفظ شدہ جانوروں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرے اور مقامی افراد کو شعور دینے کے لیے آگاہی مہمات شروع کرے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔