اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 23 اپریل 2025ء) پاکستان سے غیر ملکی باشندوں کی ملک بدری کی مہم کے دوران ستمبر 2024ء سے لے کر اب تک پانچ لاکھ سے زیادہ افغان باشندوں کو واپس ان کے وطن بھیجا جا چکا ہے۔ ان افغان شہریوں میں تقریباﹰ نصف تعداد خواتین اور مختلف عمر کی لڑکیوں کی تھی۔

اہم بات تاہم یہ ہے کہ انہی افغان باشندوں میں تقریباﹰ 40 ہزار ایسی کم عمر طالبات بھی شامل تھیں، جو پاکستان کے مختلف شہروں میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم تھیں، مگر اب ڈی پورٹ کیے جانے کے بعد واپس اپنے وطن میں ان کے لیے طالبان حکومت کی سخت پالیسیوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے باعث پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔

ان ہزارہا افغان لڑکیوں کو ان کی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان سے ملک بدری کے سبب اپنی تعلیم کا سلسلہ ایک ایسے وقت پر روکنا پڑا، جب ان کے امتحانات بھی شروع ہونے والے تھے۔

(جاری ہے)

خاص طور پر یکم اپریل سے شروع کی گئی بے دخلی مہم کے دوران ایسے زیادہ تر افغان شہریوں کو پاکستانی صوبوں پنجاب اور سندھ سےلا کر صوبے خیبر پختونخوا میں طورخم کی پاک افغان سرحدی گزرگاہ کے راستے واپس افغانستان بھیجا گیا۔

پنجاب اور سندھ سے افغان باشندوں کی بے دخلی

پنجاب اور سندھ میں رہائش پذیر افغان مہاجر خاندانوں کی زیادہ تر بچیاں مختلف سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم تھیں۔ صوبے خیبر پختونخوا میں بے دخلی مہم کی سست روی کی وجہ سے تاحال صرف رضاکارانہ طور پر ہی کچھ افغان کنبے واپس گئے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے صوبائی محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار کے مطابق پشاور سے واپس افغانستان جانے والی طالبات کی تعداد تقریباﹰ دو فیصد بنتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں جہاں ایک طرف افغان بچیاں مختلف سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم ہیں، وہیں پر بعض افغان ماہرین نے اپنے تعلیمی ادارے بھی کھول رکھے ہیں۔

عالمی برادری افغان باشندوں کی دوبارہ آبادکاری کے عمل کو تیز رفتار بنائے، اسلام آباد کا مطالبہ

پشاور میں اسی نوعیت کے ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ، ڈاکٹر نور افغان سے جب ڈی ڈبلیو نے رابطہ کیا، تو ان کا کہنا تھا، ''خیبر پختونخوا میں 50 فیصد افغان بچیاں نجی تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم ہیں۔

لیکن اب چونکہ نیا تعلیمی سیشن شروع ہو رہا ہے، تو ان طالبات کے والدین غیر یقینی صورتحال کے باعث اگلے تعلیمی سال کے لیے ان کے داخلے نہیں کروا رہے، کیونکہ ایسا ہو سکتا ہے کہ ان بچیوں کی تعلیم کے لیے والدین بھاری فیسیں تو ادا کر دیں مگر پھر انہیں مجبوراﹰ پاکستان سے رخصت ہونا پڑ جائے۔‘‘ پاکستان میں ’پچاس فیصد افغان طالبات کے نئے تعلیمی داخلے نہ ہو سکے‘

ڈاکٹر نور افغان کا مزید کہنا تھا کہ بہت سے افغان باشندے اپنے اہل خانہ کے لیے تعلیم اور صحت کی سہولیات کے سبب پاکستان میں رہتے ہیں، وہ سہولیات جو افغانستان میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ڈاکٹر نور افغان، جو خود بھی ایک بڑے تعلیمی ادارے کے سربراہ ہیں، کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ اسکولوں میں داخلہ مہم کے دوران 50 فیصد افغان طالبات کے داخلے نہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بدری کی موجودہ مہم سے افغان طالبات 100 فیصد متاثر ہوئی ہیں۔ ہزارہا لڑکیاں واپس افغانستان جا چکی ہیں، جبکہ جو ابھی تک پاکستان میں ہیں، وہ موجودہ غیر یقینی صورت حال کی بنا پر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتیں۔

مزید یہ کہ پاکستان میں مثلاﹰ نجی میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم افغان لڑکیاں اگر اپنی مائیگریشن بھی کرا لیں، تو یہ امکان بہت کم ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

پاکستان سے افغان مہاجرین کی ملک بدری کا عمل تیز

ڈاکٹڑ نور افغان کے بقول، '' پاکستانی پروفیشنل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم افغان طالبات بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔

ایسی لڑکیوں کے والدین یا کچھ اہل خانہ زیادہ تر یورپی ممالک یا امریکہ میں رہتے ہیں اور وہیں سے وہ انہیں ان کے تعلیمی اخراجات کے لیے رقوم بھیجتے ہیں۔ ایسے بعض والدین تو بیرون پاکستان سے براہ راست ہی متعلقہ میڈیکل، انجینئرنگ یا آئی ٹی کالجوں میں ان بچیوں کی فیسیں جمع کرا دیتے ہیں۔‘‘ خیبر پختونخوا کے سرکاری تعلیمی اداروں میں افغان مہاجرین کے لیے مخصوص نشستیں

پشاور میں صوبائی حکومت نے تمام سرکاری تعلیمی اداروں کو افغان مہاجرین کے بچوں کو داخلے دینے کی اجازت دی تھی، جس کی وجہ سے اس وقت خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم کے اعداد و شمارکےمطابق صوبے کے پرائمری اور ہائی اسکولوں میں مجموعی طور پر تین لاکھ افغان طلبا و طالبات زیر تعلیم ہیں۔

پاکستان: ملک بدری کے لیے افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن

صوبائی حکومت نے صوبے کے تمام کالجوں میں بھی افغان طلبا و طالبات کے لیے دو دو نشستیں مختص کی تھیں۔ محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کےمطابق اس وقت سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 760 نوجوان افغان شہری بطور طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔ وفاقی حکومت نے غیر ملکی باشندوں کو ملک سے روانگی کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن سے قبل ہی پشاور حکومت سے صوبے میں زیر تعلیم غیر ملکی طلبا وطالبات کی مکمل تفصیلات طلب کر لی تھیں۔

خیبر پختونخوا کے تعلیمی محکمے کی پالیسی

پاکستان سے اب تک زیادہ تر افغان باشندوں کو پنجاب اور سندھ سے بے دخل کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں تاحال حکومتی پالیسی غیر واضح ہے۔ اس پس منظر میں صوبائی محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ افسرنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''پورے صوبے میں داخلہ مہم جاری ہے۔ لیکن ابھی تک ہمیں صوبے میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کے بچوں کو داخلے دینے کے حوالے کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں۔

افغان مہاجرین کی واپسی کی مہم کے دوران صرف پشاور سے تقریباﹰ 200 طالبات واپس جا چکی ہیں، تاہم پورے صوبے کی سطح پر یہ ڈیٹا ابھی تک مکمل نہیں۔‘‘ افغان طالبات کی پریشانی میں اضافہ

پاکستان سے افغان شہریوں کی ملک بدری سے خواتین بالخصوص طالبات شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ ان میں زیادہ تر ایسی لڑکیاں ہیں، جو پاکستان ہی میں پیدا ہوئیں اور یہیں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

ایسی طالبات کے میل ملاپ والے سماجی حلقے بھی مقامی ہی ہیں۔

پشاور کے ایک نجی تعلیمی ادارے کی افغان طالبہ مسکا احمدزئی (نام دانستہ طور پر فرضی لکھا جا رہا ہے) نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میری پیدائش پشاور ہی کی ہے۔ میں یہیں پڑھ رہی ہوں۔ کبھی افغانستان نہیں گئی۔ نہ ہی جانے کا ارادہ تھا یا ہے۔ لیکن اب دکھ اس بات کا ہے کہ مجھے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑ سکتی ہے۔

‘‘

پاکستان سے افغان باشندوں کے انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع

اس افغان طالبہ نے کہا، ''مجھے اپنے والدین کی مجبوریوں کا بھی اندازہ ہے۔ اسی لیے میں اپنی تعلیم کی قربانی دوں گی۔ اس لیے کہ جو کچھ میں خیبر پختونخوا میں پڑھ رہی ہوں، اس کا سلسلہ افغانستان میں جاری رکھنے کا تو کوئی امکان ہی نہیں۔‘‘

مسکا احمدزئی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''میری ایک بہن میڈیکل کی طالبہ ہے، جو ابھی تھرڈ ایئر میں ہے۔

جب وہ افغانستان جائے گی، تو اپنی ڈگری وہاں بھلا کیسے مکمل کر سکے گی۔ ہم سب کو یہ پریشانی اس وقت سے لگی ہے، جب سے پاکستان نے افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بڑی عجیب اور بے یقینی کی صورت حال ہے اور ہمیں اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔ یہ چند ایک کا نہیں بلکہ لاکھوں افغان لڑکیوں اور بچیوں کا مسئلہ ہے۔‘‘ انسانی حقوق کی تنظیموں کا مطالبہ

انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی تنظیموں کے علاوہ اقوام متحدہ نے بھی پاکستانی حکومت سے ملک میں زیر تعلیم افغان طالبات کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ کہتے ہوئے کہ تعلیم حاصل کرنا ان کا بنیادی حق ہے اور ان طالبات کو ان کے اس حق سے محروم نہ کیا جائے۔

پاکستان میں افغان خواتین کارکنوں کو ملک بدری کا خوف

دوسری جانب افغان حکومت کے بعض حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں ایسے بچیوں کے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے کوئی پالیسی نہیں ہے۔ کابل میں طالبان حکومت کی پالیسی کے مطابق افغانستان میں بچیاں صرف چھٹی کلاس تک ہی تعلیم حاصل کر سکتی ہیں اور اس سے آگے ان کی تعلیم پر پابندی ہے۔

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نجی تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم خیبر پختونخوا میں خیبر پختونخوا کے افغان مہاجرین کے پنجاب اور سندھ محکمہ تعلیم کے افغانستان میں افغان باشندوں میں زیر تعلیم تعلیمی ادارے افغان طالبات مہم کے دوران پاکستان میں پاکستان سے اپنی تعلیم طالبات کے ان طالبات نور افغان زیادہ تر ملک بدری ڈی ڈبلیو سے افغان کے لیے کے ایک

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا