کراچی، تھانے میں طلبہ کی توڑ پھوڑ، فائرنگ سے 4 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
فائل فوٹو
کراچی کے ڈیفنس تھانے میں قانون کے طلبہ نے توڑ پھوڑ اور پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 2 طلبہ کو اہلکاروں نے تلاشی کے لیے روکا جس پر تلخ کلامی ہوئی، وکلاء کاالزام ہے کہ طلبہ کی تھانے میں تذلیل کی گئی اور ان پر تشدد کیا گیا۔
طلبہ کی جانب سے ایف آئی آر کی درخواست پر تلخ کلامی ہوگئی، اس دوران پولیس کی فائرنگ سے 4 طلبہ زخمی ہوگئے۔
زخمی طلبہ کو اسپتال منتقل کردیا گیا، وکلاء نے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔