کوئی بھی نماز پڑھنے سے نہیں روک سکتا، نصرت بھروچا ٹرولنگ پر پھٹ پڑیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
بالی وڈ اداکارہ نصرت بھروچا مندر کے دورے کے دوران اپنے لباس اور مذہب کے باعث خود پر ہونیوالی تنقید پر پھٹ پڑیں۔حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران نصرت بھروچا نے اپنی نئی فلم’چھوری 2‘ کی تشہیر کے دوران مندروں میں جانے اور لباس پر ہونے والی تنقید سے متعلق بات کی۔نصرت بھروچا نے ٹرولرز کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ میرے لیے، میرا ایمان حقیقی ہے، غیر حقیقی چیزیں ہوتی رہتی ہیں اور یہی میرے یقین کو مضبوط کرتی ہیں، اسی لیے میں اب بھی اپنے مذہب سے مضبوطی سے جڑی ہوں ‘۔اداکارہ نے کہا کہ ’میرا ماننا ہے کہ آپ کو جہاں سکون میسر آئے آپ کو وہاں جانا چاہیے، پھر چاہے وہ مندر ہو، گوردوارہ ہو یا چرچ ، میں پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہوں حتیٰ کہ سفر میں بھی اپنی جائے نماز اپنے ساتھ رکھتی ہوں‘ ۔اداکارہ نے مزید کہا کہ’ چاہے میں کہیں بھی جاؤں یا کوئی بھی لباس پہنوں ، مجھے غیر مناسب تبصروں کا سامناکر نا پڑتا ہوں، جب میں اپنی تصویر پوسٹ کرتی ہوں تو لوگ پوچھتے ہیں، یہ کس قسم کی مسلمان ہے؟ اس کے کپڑے دیکھو'۔نصرت بھروچا کاکہنا تھاکہ ’میرا ہمیشہ سے یقین ہے کہ خدا ایک ہے مگر اس سے رابطہ کرنے کے لیے مختلف راستے ہیں اور میں ان تمام راستوں کو تلاش کرنا چاہتی ہوں، ناقدین کی رائے مجھے تبدیل نہیں کر سکتی یا مجھے مندر جانے یا پھر نماز پڑھنے سے نہیں روک سکتی ‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔