12 ہزار افغان باشندوں کا پاکستانی دستاویزات استعمال کرکے سعودی عرب جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) 12 ہزار افغان باشندوں کی جانب سے پاکستانی دستاویزات استعمال کرکے سعودی عرب جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی پاسپورٹ مصطفی جمال قاضی نے بتایاکہ 12 ہزار افغان باشندے پاکستانی دستاویزات استعمال کرکے سعودی عرب گئے اور وہاں جاکر پاکستانی پاسپورٹ ڈمپ کئے۔
ڈی جی پاسپورٹ کے مطابق تمام فیک پاسپورٹ منسوخ کئے گئے، فیک پاسپورٹ والوں کو سعودی عرب نے افغانستان ڈی پورٹ کیا جبکہ گجرات، گوجرانوالہ اور کے پی سے بڑی تعداد میں فیک پاسپورٹ ایشو ہوئے تھے۔
اس دوران ممبر لیگل نادرا نے بتایا کہ 2023 سسٹم میں بڑی مداخلت ہوئی تھی جس پر جے آئی ٹی بنی اورپھر سسٹم سکیورٹی بہتر ہوئی۔
حکام نے یہ بھی بتایا کہ پاسپورٹ اینڈامیگریشن کے 35 افسران فیک پاسپورٹ کے اجرائ پر فارغ ہوئے، نادرا نے 34 ایف آئی آر درج کیں،7 ہزار کے شناختی کارڈز کی ہم نے تصدیق کی، قومی دھارے میں شامل کرنے کےلئے نادرا نے شناختی کارڈ بنانے کی پالیسی بنائی تھی۔
پہلگام حملے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ کا رد عمل سامنے آگیا، پاک بھارت کرکٹ کے حوالے سے بڑا فیصلہ سنا دیا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔