پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارتی نائب صدر بھی مشکل میں پڑ گئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو پروازوں کے رخ موڑنا پڑگئے، بھارتی نائب صدر کی خصوصی پرواز کو دلی سے اٹلی جاتے ہوئے تاخیر ہوئی اور ڈیڑھ گھنٹہ طویل فاصلہ اختیار کرنا پڑا۔
ٹورنٹو، نیو یارک، لندن، ڈنمارک اور دمام سے دلی کی پروازیں دو گھنٹے جبکہ برمنگھم، سان فرانسسکو، فرینکفرٹ اور پیرس سے دلی کی پروازیں 2 گھنٹے طویل ہوگئیں۔ایمسٹرڈیم اور آذربائیجان کے دارالحکومت باکو سے دلی کی پروازیں بھی دو گھنٹے طویل ہوگئیں، طویل دورانیے کی بین الاقوامی پروازوں کو کئی دیگر ملکوں کے ایئرپورٹس پر اتارنا پڑا۔شارجہ امرتسر پرواز کو احمدآباد اور ٹورنٹو دلی کی پرواز کو ڈنمارک میں اتارا گیا، ابوظبی میں اتاری گئی پیرس اور لندن کی پروازیں ری فیولنگ کے بعد دلی پہنچیں۔
بپہلگام فالس فلیگ آپریشن اور مودی سرکار پر سوال اٹھانے والےکشمیریوں کیساتھ بھارتی فورسز نے کیا سلوک کیا ۔۔۔؟ ویڈیو دیکھیں
الماتے اور تاشقند کےلیے 2 پروازیں منسوخ کردی گئیں۔ دبئی امرتسر کی پرواز ڈھائی گھنٹے طویل ہوگئی۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: دلی کی پرواز کی پروازیں
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔