پاک ، بھارت کشیدگی : وزیر خارجہ کا سعودی و ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سعودی و ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں وزیر خارجہ نے دونوں رہنماؤں کو پاکستان اور بھارت کی حالیہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
"جیو نیوز " کے مطابق سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے رابطہ کیا، اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ کو قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے آگاہ کیا اور بھارت کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کردیا۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کسی بھی جارحیت پر پاکستان کے سخت جواب دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
کیا پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں کو دیگر ممالک کے ویزے نہیں ملیں گے؟
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس اراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایران کی کوششوں کو سراہا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے ایرانی ہم منصب کو پاک ،بھارت حالیہ صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا اور بھارت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا۔وزیرخارجہ نے بھارت کی جانب سے صورتحال کو مزید بگاڑنے کے حوالے سے آگاہ کیا اور کل مسقط میں ہونے والے ایران، امریکہ مذاکرات میں کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہارکیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔