پانی روکنے کی صورت میں بھارت کو سخت ردعمل کا سامنا ہوگا :دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے میڈیا بریفنگ میں واضح کیا ہے کہ اگر بھارت نے پانی روکنے کی کوشش کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا اور ایسی کسی بھی کارروائی کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں بھارتی اقدامات پر سخت موقف اپنایا گیا اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے سے خطے کے امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ترجمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بھارت کا غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے جس سے دو قومی نظریے کو مزید تقویت ملی ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افواج ہر ممکن دفاع کے لیے مکمل تیار ہیں اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا شفقت علی خان نے مزید بتایا کہ واہگہ بارڈر سے ہر قسم کی آمد و رفت بند کر دی گئی ہے اور بھارتی پروازوں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود بھی معطل کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارک سکیم کے تحت بھارتی شہریوں کے تمام ویزے معطل کر دیے گئے ہیں تاہم سکھ یاتری اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے ترجمان نے بین الاقوامی تعلقات پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ ترکیہ دورے میں ترک قیادت سے اہم اور مثبت بات چیت ہوئی اسی طرح متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم نے پاکستان کا دورہ کیا جس میں دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا روانڈا کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے دوران بھی مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق معاہدے طے پائے انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے افغانستان کا دورہ کیا جبکہ انہوں نے ازبکستان اور ایران کے وزرائے خارجہ سے بھی ٹیلی فون پر رابطہ کر کے باہمی تعلقات پر گفتگو کی
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
پشاور:حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے او پی ڈیز اور آپریشنز کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں نے او پی ڈی کمروں کو تالے بھی لگا دیے۔ ہڑتال کے باعث اسپتال میں مختلف طبی سروسز کی فراہمی معطل ہو کر رہ گئی۔
اس صورتحال کے نتیجے میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر اسفندیار نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے وعدے کے مطابق کرپشن کی شفاف تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اس حوالے سے فوری اقدامات نہ کیے تو صوبے بھر کے تمام اسپتال بند کر دیے جائیں گے۔