سیاحوں کے کشمیر چھوڑنے سے دشمن کا مقصد پورا ہوگا، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ جو لوگ پہلگام واقعے کو مذہبی رنگت دینے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ کشمیری عوام نے اس حملے کی بلاتفریق مذہب، رنگ و نسل مذمت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے سیاحوں کو خود حالات کا جائزہ لے کر کشمیر آنے یا نہ آنے کا فیصلہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کشمیر سے دوری اختیار کرتے ہیں تو دشمن کے عزائم کو تقویت ملے گی۔ عمر عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار رام بن ضلع کے دھرم کنڈ علاقے میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔ عمر عبداللہ نے کہا "میں ان سیاحوں کا خوف سمجھ سکتا ہوں جو یہاں چھٹیاں گزارنے آتے ہیں اور اس قسم کی کشیدگی نہیں چاہتے لیکن میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ حالات کو دیکھ کر فیصلہ کریں، اگر وہ کشمیر کے لوگوں کا ساتھ چھوڑیں گے تو یہ دشمن کی جیت ہوگی، جب سیاحوں کو نشانہ بنایا گیا تو مقصد ہی یہ تھا کہ انہیں کشمیر سے نکالا جائے"۔
عمر عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار پہلگام میں 22 اپریل کو دہشت گردوں کے حملے میں ہلاک ہوئے 27 سیاحوں سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہیں۔ پہلگام حملے کے بعد ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فرقہ وارانہ خلیج پیدا کرنے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن انہیں یہ بھی جان لینا چاہیئے کہ ایک مسلمان سید عادل حسین نے دہشتگرد سے بندوق چھیننے کی کوشش کی اور اپنی جان دے دی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس واقعے کو مذہبی رنگت دینے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ کشمیری عوام نے اس حملے کی بلا تفریق مذہب، رنگ و نسل مذمت کی ہے۔
سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کے ہندوستان کے فیصلے پر عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ معاہدہ جموں و کشمیر کے لئے ہمیشہ نقصاندہ رہا ہے اور اگر اسے ختم کیا جاتا ہے تو میں اس کی حمایت کرنے والا پہلا شخص ہوں گا۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی نے ضلع رام بن کے دھرم کنڈ کے سیلاب متاثرین کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور دعویٰ کیا کہ ضلع مجسٹریٹ رام بن کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ متاثرین کے لئے پلاٹس کی نشاندہی کریں تاکہ انہیں مکانات تعمیر کرنے کے لئے زمین دی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر عبداللہ نے نے کہا کہ کشمیر کے کی کوشش
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔