انٹرنیٹ کمپنی یاہو نے گوگل کروم خریدنے میں دلچسپی ظاہر کردی
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
ویب ڈیسک: امریکی محکمہ انصاف آن لائن سرچ مارکیٹ میں گوگل کی اجارہ داری ختم کرنے کے لیے گوگل کو اس کا مقبول کروم براؤزر فروخت کرنے پر مجبور کررہا ہے۔
چند ماہ قبل امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے وفاقی عدالت کو تجویز پیش کی گئی تھی کہ گوگل کو اپنا کروم براؤزر فروخت کر دینا چاہیے۔
ٹیکنالوجی رپورٹس کے مطابق امریکی انٹرنیٹ کمپنی یاہو کے مالک کی جانب سے گوگل کا کروم براؤزر خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔
گلیڈئیٹرز vs کے کے؛ روسو حسن علی کا تیسرا شکار بن گئے
سینئر ایگزیکٹو کے مطابق ’ اگر وفاقی عدالت کی جانب سے گوگل کو اپنا کروم ویب براؤزر فروخت کرنے پر مجبور کیا گیا تو انٹرنیٹ کمپنی یاہو کے مالک اس خریداری کیلئے بولی لگائیں گے ‘ ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یاہو سرچ کے جنرل مینیجر برائن پرووسٹ نے 2 روز قبل واشنگٹن میں گوگل ٹرائل کے دوران مؤقف اپنایا کہ ’ ان کی کمپنی کے لگائے گئے اندازے کے مطابق براؤزر کی فروخت کی قیمت 10 ارب ڈالر سے زائد ہوگی، مبینہ طور پر ویب پر سب سے اہم اسٹریٹجک پلیئر ہے اور ہم Apollo Global کے ساتھ اس کو خریدنے کے قابل ہوجائیں گے‘۔
قذافی سٹیڈیم میں کوئٹہ گلیڈئیٹرز اور کراچی کنگز کے میچ میں ڈرامائی آغاز
یاد رہے کہ یاہو، گوگل سے قبل 2000 کی دہائی کے اوائل میں سرفہرست سرچ انجن تھا، کمپنی کے کرتا دھرتا کئی بار تبدیل ہوئے تاہم 2021 میں اپالو نے اسے Verizon Communications Inc سے خریدا تھا۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔