پاک بحریہ کی حکمت کے باعث بھارتی طیارہ بردار جہاز بحیرہ عرب سے واپس جانے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
بھارتی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز کروار نیول بیس کے قریب(تصویر سوشل میڈیا)۔
پاک بحریہ کی حکمت عملی کی وجہ سے بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت جنوبی بھارتی ریاست کرناٹک میں واقع کروار نیول بیس واپس جانے پر مجبور ہوا۔
بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت کھلے سمندر میں چند روز رہنے کے بعد واپس کروار بندرگاہ چلا گیا۔
بھارت نے طیارہ بردار جہاز وکرانت کو حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر بحیرہ عرب میں تعینات کیا تھا۔
بھارت نے جہاز کو 23 اپریل کو شمالی بحیرہ عرب میں پاکستانی سمندری حدود کے قریب تعینات کیا تھا۔
تاہم پاک بحریہ کی مسلسل پٹرولنگ کے باعث بھارتی بحریہ نے طیارہ بردار جہاز وکرانت کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: طیارہ بردار جہاز وکرانت
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔