پاک بحریہ کی حکمت کے باعث بھارتی طیارہ بردار جہاز بحیرہ عرب سے واپس جانے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
بھارتی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز کروار نیول بیس کے قریب(تصویر سوشل میڈیا)۔
پاک بحریہ کی حکمت عملی کی وجہ سے بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت جنوبی بھارتی ریاست کرناٹک میں واقع کروار نیول بیس واپس جانے پر مجبور ہوا۔
بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت کھلے سمندر میں چند روز رہنے کے بعد واپس کروار بندرگاہ چلا گیا۔
بھارت نے طیارہ بردار جہاز وکرانت کو حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر بحیرہ عرب میں تعینات کیا تھا۔
بھارت نے جہاز کو 23 اپریل کو شمالی بحیرہ عرب میں پاکستانی سمندری حدود کے قریب تعینات کیا تھا۔
تاہم پاک بحریہ کی مسلسل پٹرولنگ کے باعث بھارتی بحریہ نے طیارہ بردار جہاز وکرانت کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: طیارہ بردار جہاز وکرانت
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔