مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کا محاصرے، تلاشی اور گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
عینی شاہدین نے صحافیوں کو بتایا کہ گھروں پر چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران نوجوانوں کو گرفتار اور ہراساں جبکہ گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے تاکہ حق خودارادیت کے لئے کشمیریوں کے عزم کو توڑا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے مختلف علاقوں میں نہتے کشمیریوں کے خلاف اپنی پرتشدد اور غیر انسانی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے سینکڑوں بے گناہ نوجوانوں کو گرفتارکر لیا۔ ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز، پیراملٹری سنٹرل ریزرو پولیس فورس، پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اور تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے وادی کے طول و عرض میں حریت پسند کشمیریوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشیاں لیں۔سرینگر شہر میں بٹہ مالو، صفاکدل، صورہ، پاندچھ، بمنہ، شالہ ٹینگ، لال بازار اور جڈی بل سمیت مختلف علاقوں میں 65 سے زائد حریت پسندوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے اور تلاشیاں لی گئیں۔ فورسز نے ان کاروائیوں کے دوران مکینوں کو ہراساں کیا اور گھریلو سامان کی توڑپھوڑ کی جبکہ لوگوں کی نقدی اور قیمتی اشیاء لوٹ لیں۔ یہ کارروائیاں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ اور بھارت کے مسلط کردہ لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کے حکم پر کی جا رہی ہیں۔ عینی شاہدین نے صحافیوں کو بتایا کہ گھروں پر چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران نوجوانوں کو گرفتار اور ہراساں جبکہ گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے تاکہ حق خودارادیت کے لئے کشمیریوں کے عزم کو توڑا جائے۔ انہوں نے بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور علاقے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر میڈیا کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسلام آباد، شوپیاں، کولگام، پلوامہ، بڈگام، گاندربل، بارہمولہ، بانڈی پورہ اور کپواڑہ اضلاع کے مختلف علاقوں میں بھی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ عوامی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے وادی بھر میں بھارتی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ اس دوران پلوامہ، اسلام آباد، بانڈی پورہ، کولگام، شوپیاں اور کپواڑہ اضلاع میں کشمیریوں کے متعدد رہائشی مکانات کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیریوں کے گھروں پر
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔