ایران جاری ہفتے کے آخر تک یورپ کیساتھ بھی مذاکرات شروع کر سکتا ہے، عالمی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
عالمی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کیساتھ بالواسطہ مذاکرات کے اگلے دور کے آغاز سے قبل ہی یورپیوں کیساتھ مذاکراتی نشست کی پیشکش بھی دی ہے! اسلام ٹائمز۔ کینیڈین خبررساں ایجنسی روئٹرز نے 4 اعلی سفارتی ذرائع سے نقل کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ایران نے جوہری معاہدے (JCPOA) میں موجود یورپی فریقوں کے ساتھ مذاکراتی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ روئٹرز کے مطابق یہ ملاقات ممکنہ طور پر جمعے کے روز اٹلی کے دارالحکومت روم میں منعقد ہو گی۔ روئٹرز نے مزید لکھا کہ یورپیوں نے ابھی تک اس پیشکش پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
واضح رہے کہ ایران و امریکہ کے درمیان اب تک بالواسطہ مذاکرات کے 3 دور مکمل ہو چکے ہیں جبکہ اگلا دور ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے، ہفتے کے روز کسی یورپی ملک میں منعقد ہو گا۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق ایران - یورپ تعلقات کے بارے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے دور کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں کہا تھا کہ تین یورپی ممالک فرانس، جرمنی و برطانیہ کے ساتھ ایران کے تعلقات حالیہ برسوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، چاہے ہم اسے پسند کریں یا نہ کریں.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔