ہم نے بیانیے کی جنگ بھارت سے جیت لی، کوثر کاظمی
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
لاہور:
سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز کا کہنا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ اس موضوع پر کوئی تنقید ہوگی اور معاملات ضرور ہیں لیکن اس موضوع پر میرے خیال میں سب متفق ہیں، آن ریکارڈ ہیں اور یہ مختلف مینی فیسٹوز کا بھی حصہ ہے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام اسٹیٹ کرافٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ لیکن میں یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ غالباً یہ جو انڈیا اقلیتوں کے ساتھ کیونکہ وہاں مسلمان بھائی اقلیت میں ہیں جو یہ ایڈمنسٹریشن کے ذریعے یا اپنی سیکیورٹی فورسز کے ذریعے کشمیر میں یا انڈیا میں دیگر جگہ جو یہ کر لیتے ہیں اور اس کا کوئی خاص ری ایکشن نہیں آتا یا وہ لوگ بے چارے بے بس ہیں تو ان کے ذہن میں شاید جنگ کے پورے اثرات واضح نہیں ہو رہے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید جیسے وہاں پر اپنے پراونس میں کیا ہے یا جو باقی انڈیا میں کرتے ہیں یہاں پر بھی اس طرح ہونا ہے لیکن یہ ان کو جلد سمجھ آ جائے گی کہ ایسا نہیں ہے۔
رہنما تحریک انصاف نعیم حیدر پنجوتا نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ این آئی سی کے اندر نواز شریف صاحب بھی نہیں آئے تھے اور آپ کے وزیر داخلہ بھی نہیں تھے، اس وقت بھی ہم کہہ رہے تھے کہ عمران خان صاحب کا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ کیونکہ قوم کو ان کے اوپر اعتماد ہے ، یہ فالس فلیگ آپریشن ہے جو بھارت نے ہمارے اوپر کیا ہے، ہمارا کلیئر موقف پاکستان کے ساتھ ہے، عمران خان سے کل ملاقات ہو گی تو جو ان کا میسج ہے وہ ورڈ ٹو ورڈ دیا جاتا ہے لیکن نواز شریف تو باہر ہیں نہ وہ تو جیل میں نہیں ہیں اگر وہ مودی کو مبارک باد دے سکتے ہیں تو ان کو اور مریم صاحبہ کو بھی بیان دینا چاہیے۔
رہنما مسلم لیگ (ن) کوثر کاظمی نے کہا کہ ہم نے بیانیے کی جنگ بھارت سے جیت لی، ہمارے میڈیا ہاؤسز ہوں ہمارے جید صحافی ہوں ہمارے عام شہری ہوں ہم نے ان کو مات دیدی، دیکھیں وہ جو رابن رافیل کی بالکل آپ نے اسٹیٹمنٹ سنی ہو گی کہ یو ایس ول سپورٹ، جو بھی ہماری طرف سے انڈپینڈنٹ اور نیوٹرل انوسٹی گیشن کے حوالے سے پی ایم صاحب نے آفر دی اس کو لیکر دنیا اس کی تائید کر رہی ہے،خدا کے لیے ایسی نازک صورتحال کے اندر پاکستانیت کے حوالے سے بات کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔