سپریم کورٹ آف پاکستان کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کو یونیورسٹی آف لندن نے قانون میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا ہے۔

چانسلر یونیورسٹی آف لندن کی جانب سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری جسٹس عائشہ ملک کو پاکستان میں قانون کے شعبے میں خدمات اور کامیابیوں اور پاکستان کی سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جسٹس بننے کی بنیاد پر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

یونیورسٹی آف لندن میں گزشتہ روز منعقدہ ایک تقریب میں یونیورسٹی آف لندن کی وائس چانسلر وینڈی تھامسن، ڈین انڈرگریجویٹ لاز پیٹریشیا میک کیلر اور ریجنل ہیڈ ساؤتھ ایشیا سعد وسیم نے بھی شرکت کی۔

سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک نے ہارورڈ یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کیا تھا، انہوں نے 28 سال سے زائد عرصے تک قانون کے شعبے میں کام کیا ہے اور اپنے بہترین فیصلوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔

مزید پڑھیں:

جسٹس عائشہ ملک 2012 میں لاہور ہائیکورٹ کی جج بنیں اور 2022 میں انہیں سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جسٹس بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اعزازی ڈگری جسٹس عائشہ ملک چانسلر ڈاکٹریٹ سپریم کورٹ قانون یونیورسٹی آف لندن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اعزازی ڈگری جسٹس عائشہ ملک چانسلر ڈاکٹریٹ سپریم کورٹ یونیورسٹی ا ف لندن یونیورسٹی آف لندن جسٹس عائشہ ملک کی پہلی خاتون اعزازی ڈگری سپریم کورٹ کورٹ کی

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن