آئی ایس او کے مرکزی صدر کا دورہ کوہاٹ و ہنگو
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
سید فخر عباس نقوی نے دورہ کوہاٹ کے موقع پر معروف مقامی عالم دین علامہ سید قیصر عباس الحسینی سے ملاقات کی، اور مقامی حالات اور ملی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر سید فخر عباس نقوی نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ اور ہنگو کا دورہ کیا، اس موقع پر مقامی تنظیمی مسئولین بھی ان کے ہمراہ تھے، مرکزی صدر آئی ایس او نے دورہ کوہاٹ کے موقع پر معروف مقامی عالم دین علامہ سید قیصر عباس الحسینی سے ملاقات کی، اور مقامی حالات اور ملی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس کے علاوہ دورہ ہنگو کے موقع پر سید فخر عباس نقوی معروف دینی درسگاہ جامعہ العسکریہ بھی گئے، جہاں انہوں نے مدرسہ کے علمائے کرام سے ملاقات کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔