لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
—فائل فوٹو
سندھ ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔
لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سماعت سندھ ہائی کورٹ میں ہوئی۔
دوران سماعت عدالت نے سوال کیا کہ سرجانی ٹاؤن سے لاپتہ مظفر علی سے متعلق کیا پیش رفت ہے؟ جس پر فوکل پرسن محکمۂ داخلہ نے بتایا کہ لاپتہ شہری کے اہلخانہ کی مالی معاونت کےلیے سمری منظور ہوچکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے لاپتہ افراد کیس انتہائی اہم ہے، ہزاروں لوگ لاپتہ ہیں: جسٹس جمال مندوخیل لاپتہ افراد کیس: پولیس رولز میں 3 ماہ میں اصلاحات کا حکمسرکاری وکیل نے کہا کہ مہلت دی جائے اہلخانہ کی مالی معاونت کی جائے گی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ پہلے تو آپ کہہ رہے تھے کہ 2 ہفتوں میں مالی معاونت ہو جائے گی، اب مزید مہلت کیوں مانگ رہے ہیں؟ ادارے لوگوں کی آسانی کےلیے بنائے گئے ہیں یا نہیں؟ جس پر سرکاری وکیل بولے کہ دو تین محکموں کا کام ہے۔
جسٹس ظفر احمد راجپوت نے استفسار کیا کہ اور ان محکموں میں کوئی کام نہیں ہوتا، ایسا ہے ناں؟ گزشتہ 2 ماہ سے آپ عدالت سے مہلت طلب کر رہے ہیں، 15 دن کی مہلت دے رہے ہیں ورنہ ہم اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کو طلب کریں گے۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے 15 دن کے اندر رپورٹ طلب کرلی جبکہ سچل سے لاپتہ فدا حسین، ظہیر اور عباس سے متعلق سماعت کچھ دیر کےلیے ملتوی کردی گئی۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ آپ نے درخواست گزار سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟ 3 لوگ لاپتہ ہیں، گاڑی کا نمبر بھی دیا گیا ہے، نہ لوگوں کا پتہ چلا، نہ ہی آپ گاڑی ڈھونڈ سکے، درخواست گزار سے رابطہ کر کے فوری رپورٹ پیش کریں۔
سندھ ہائی کورٹ نے شہری عارف کی گمشدگی سے متعلق پیش رفت رپورٹ طلب کر لی جبکہ عدالت نے لاپتہ شہری بشیر، شوکت و دیگر سے متعلق بھی پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لاپتہ افراد کی عدالت نے کیا کہ
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔