ایئر پورٹ خودکش حملہ کیس میں نجی بینک کے ملازم کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
سندھ ہائی کورٹ — فائل فوٹو
سندھ ہائی کورٹ نے ایئرپورٹ خودکش حملہ کیس میں نجی بینک کے ملازم کی ضمانت منظور کرلی۔
عدالت میں ایئرپورٹ خودکش حملہ کیس میں دہشتگردوں کی فنڈنگ اور سہولت کاری کے کیس کی سماعت ہوئی۔
کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ایئرپورٹ کے قریب خود کش حملہ کیس کی سماعت 26 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔
پراسیکیوشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مقدمے میں کالعدم تنظیم کے کمانڈر بشیر زیب اور رحمٰن گل مفرور ہیں، ملزمان کے خلاف دہشتگردوں کو فنڈنگ کا مقدمہ سی ٹی ڈی نے درج کیا۔
پراسیکیوشن نے مزید بتایا کہ ملزمان نے خودکش حملے میں استعمال گاڑی کی خریداری کےلیے رقم کی ادائیگی میں سہولتکاری کی تھی۔
عدالت نے اس کیس میں نجی بینک کے ملازم کی ضمانت منظور کرلی اور 2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔