ملک بھر گرمی برقرار، آئندہ24گھنٹوں میں موسم گرم رہنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔29 اپریل ۔2025 )ملک بھر میں ہیٹ ویو کی شدید لہر جاری ہے اور محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ24گھنٹوں میں بھی موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق 30اپریل تک گرمی کی شدت برقرار رہے گی گزشتہ روز لاڑکانہ، دادو اور تربت میں درجہ حرارت ریکارڈ سطح یعنی 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا.
(جاری ہے)
پنجاب کے شہروں لاہور، سرگودھا اور ملتان شدید گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے جبکہ سندھ کے سکھر، نواب شاہ اور مٹھی میں بھی رواں ہفتے درجہ حرارت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے بلوچستان کے سبی اور تربت میں بھی پارہ بلند رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے.
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور گردونواح میں بھی گرمی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ہے مجموعی طور پر ملک کے بیشتر علاقوں میں شدید گرمی پڑنے کی پیش گوئی کی گئی ہے محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں اور دھوپ میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں. محکمہ موسمیات نے سندھ بھر میں اگلے کچھ روز تک گرمی کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سندھ کے کئی مقامات کو گرمی کی لہر کاسامنا ہے اور کراچی میں بھی آئندہ کچھ روز موسم گرم اور مرطوب رہنے کاامکان ہے جب کہ آئندہ 2روز میں شہر میں وقفے وقفے سے تیز ہوائیں چلتی رہیں گی. محکمہ موسمیات کا بتانا ہے کہ یکم مئی کومغربی ہواوں کاسلسلہ ملک کے بالائی علاقوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور مغربی ہواﺅں کا یہ سسٹم 5 مئی تک ملک پر اثر انداز رہے گا محکمہ موسمیات مطابق مغربی ہواﺅں کاسسٹم ملک کے بالائی علاقوں میں بارش کا سبب بن سکتاہے اور سسٹم کے کچھ اثرات سندھ میں بھی بارش کی صورت میں ہوسکتے ہیں جس کے سبب 2 سے 3 مئی کے دوران سندھ میں چند مقامات پر بارش ہوسکتی ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے محکمہ موسمیات کا رہنے کا امکان امکان ہے میں بھی گرمی کی ہے اور
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز