پاکستانی عازمین حج کی مدینہ منورہ آمد کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
مدینہ منورہ میں پاکستان کے سرکاری عازمین حج کی امد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: حج آپریشن 2025 کا آغاز، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے حجاج کو رخصت کیا
منگل کے روز 3 پروازیں مدینہ منورہ ایئرپورٹ پر اتریں جبکہ کراچی سے چوتھی پرواز نصف شب تک مدینہ منورہ پہنچے گی۔
اسلام اباد سے 393 عازمین حج کو لے کر پرنس محمد بن عبدالعزیز ایئرپورٹ پر اتری۔ دوسری پرواز ملتان کے 150 عازمین کرام کو لے کر دن ساڑھے 12 بجے اتری۔ تیسری پرواز کوئٹہ سے 152 عازمین کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچی۔
مزید پڑھیے: سعودی عرب کا غیر قانونی طور حجاج، سہولت کاروں کے لیے سزاؤں کا اعلان
عازمین حج کے استقبال کے لیے سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر فاروق احمد، ڈی جی حج عبدالوہاب سومرو ڈائریکٹر حج مدینہ منورہ ضیاء الرحمن قونصل جنرل پاکستان خالد مجید، سعودی طوافہ اور پاکستانی فضائی کمپنیوں کے نمائندے موجود تھے۔
عازمین حج کو مخصوص بسوں کے ذریعے ان کی رہائش گاہوں پر پہنچایا گیا۔
مزید پڑھیں: ہزاروں پاکستانی عازمین حج کے لیے کیوں نہیں جا سکیں گے، وفاقی وزیر مذہبی امور نے وجہ بتا دی
سعودی تقافتی روایات کے مطابق ہوٹل پہنچنے پر عازمین حج کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور پھولوں، چاکلیٹ، کھجور اور مشروبات سے تواضع کی گئی۔
پاکستانی سفیر فاروق احمد نے عازمین حج کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے بہترین انتظامات پر سعودی حکومت، متعلقہ اداروں اور پاکستان حج مشن کی کاوشوں کو سراہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سرکاری حج اسکیم عازمین حج عازمین حج کی مدینہ منورہ آمد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سرکاری حج اسکیم عازمین حج کی مدینہ منورہ ا مد کے لیے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک