پانی و بجلی کی بندش پر شہری مشتعل، مختلف علاقوں میں احتجاج، ٹریفک نظام مفلوج
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں پانی اور بجلی کی طویل بندش پر عوام کا صبر جواب دے گیا، مختلف علاقوں میں شہری سڑکوں پر نکل آئے، احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باعث شہر کا ٹریفک نظام بری طرح متاثر ہوا۔
یونیورسٹی روڈ اور جیل چورنگی کے قریب بجلی کی مسلسل بندش کے خلاف علاقہ مکینوں نے احتجاج کیا جس کے دوران مظاہرین مشتعل ہو گئے اور سڑکوں سے گزرنے والی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔ احتجاج کے باعث یونیورسٹی روڈ، جیل روڈ اور ملحقہ شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام دیکھنے میں آیا۔ احتجاج تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور مظاہرین کو منتشر کر کے ٹریفک بحال کرایا۔
دوسری جانب گارڈن کے علاقے میں بھی بجلی کی بندش پر شہریوں نے الیکٹرک کے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔ آغا خان سوئم روڈ، انکل سریا اسپتال سے ٹینکر چورنگی کی جانب آنے جانے والا راستہ ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا، جس کے باعث اطراف کی سڑکوں پر شدید ٹریفک جام ہو گیا۔گارڈن کا احتجاج تقریباً 45 منٹ تک جاری رہا، بعد ازاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کیا گیا اور سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔
شہریوں کا مطالبہ تھا کہ بجلی اور پانی کی فراہمی فوری طور پر بحال کی جائے۔ عوامی شکایات کے باوجود متعلقہ ادارے تاحال مسئلہ حل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بجلی کی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک