پاکستان کو بھارت کی جانب سے ممکنہ فوجی جارحیت کے مستند انٹیلیجنس شواہد موصول ہوئے ہیں، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کو مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ بھارت، اگلے 24 سے 36 گھنٹوں کے دوران، حالیہ پہلگام واقعے کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں جنہیں پاکستان یکسر مسترد کرتا ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے خود کو خطے میں جج، جیوری اور جلاد کے طور پر پیش کرنے کے رویے کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں، کسی بھی شکل میں دہشت گردی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلگام واقعے کے تناظر میں پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے، مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی، تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور واقعات کی اصل نوعیت کا تعین کیا جا سکے۔
تاہم بھارت کی جانب سے اس پیشکش کو مسترد کر کے غیر معقولیت اور تصادم کے راستے کو اپنانا، نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے آزادانہ تحقیقات سے گریز اس کے اصل عزائم کو بے نقاب کرتا ہے، جس کا مقصد سیاسی فوائد کے لیے عوامی جذبات کو اشتعال دینا اور تصادم کی فضا پیدا کرنا ہے، یہ ایک نہایت افسوسناک رجحان ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان ایک بار پھر یہ واضح کرتا ہے کہ اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی کی کوشش کی تو اس کا منہ توڑ اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں اس کے تباہ کن نتائج کی مکمل ذمہ داری بھارت پر عائد ہو گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اور ہر قیمت پر اپنا دفاع کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارت کی جانب سے عطا تارڑ نے کہ پاکستان نے کہا کہ کسی بھی کرتا ہے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔