پاک بھارت ٹاکرے کے متنازع میچ ریفری ’اینڈی پائی کرافٹ‘ کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
دبئی(سپورٹس ڈیسک) ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچ میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ بنے جنہیں سوشل میڈیا پر متنازع شخصیت قرار دیا جانے لگا ہے۔
اینڈی پائی کرافٹ نے پاک بھارت ٹاس کے وقت قومی ٹیم کے کپتان سلمان آغا سے کہا تھا کہ بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو سے ہاتھ نہیں ملانا ہے۔
اس سے قبل اینڈی پائی کرافٹ نے پاکستانی میڈیا منیجر سے کہا تھا کہ اس پورے معاملے کی ریکارڈنگ نہیں ہونی چاہیے جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو میچ ریفری کے خلاف خط لکھا جس میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے پائی کرافٹ اور ایونٹ ڈائریکٹر اینڈریو رسل کو ایونٹ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اینڈی پائی کرافٹ کون ہیں؟
اینڈی پائی کرافٹ زمبابوے کے سابق کرکٹر رہ چکے ہیں جن کا کیریئر مختصر رہا ہے۔ انہوں نے محض تین ٹیسٹ میچز اور 20 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں زمبابوے کی نمائندگی کی تھی۔
ان کے کیرئیر میں ایک یادگار لمحہ اس وقت آیا تھا جب انہوں نے آسٹریلیا کی بی ٹیم کے خلاف 104 رنز اسکور کیے تھے، جس میں شین وارن اور اسٹیو واگ جیسے بڑے نام شامل تھے۔
کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے زمبابوے کی انڈر-19 ٹیم کی کوچنگ سنبھالی، سلیکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور مختصر عرصے کے لیے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ بھی رہے۔ تاہم 2003 ورلڈ کپ کے دوران انتخابی تنازعات کی وجہ سے مستعفی ہو گئے۔
اینڈی پائی کرافٹ 2009 سے اب تک 103 ٹیسٹ میچوں میں میچ ریفری کے فرائض انجام دے چکے ہیں، جو انہیں ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں چوتھا سب سے تجربہ کار ریفری بناتا ہے۔
تاہم حالیہ ہونے والے پاک بھارت میچ کے بعد سے ان پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ پی سی بی کے بیان کے مطابق میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ نے آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی کھلی خلاف ورزی سمیت اسپرٹ آف دی گیم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔
واضح رہے اتوار کو دبئی میں کھیلے گئے ایشیا کپ کے میچ میں بھارت نے پاکستان کو سات وکٹوں سے شکست دی تھی۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اینڈی پائی کرافٹ میچ ریفری
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔