دبئی(سپورٹس ڈیسک) ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے میچ میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ بنے جنہیں سوشل میڈیا پر متنازع شخصیت قرار دیا جانے لگا ہے۔

اینڈی پائی کرافٹ نے پاک بھارت ٹاس کے وقت قومی ٹیم کے کپتان سلمان آغا سے کہا تھا کہ بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو سے ہاتھ نہیں ملانا ہے۔

اس سے قبل اینڈی پائی کرافٹ نے پاکستانی میڈیا منیجر سے کہا تھا کہ اس پورے معاملے کی ریکارڈنگ نہیں ہونی چاہیے جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو میچ ریفری کے خلاف خط لکھا جس میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے پائی کرافٹ اور ایونٹ ڈائریکٹر اینڈریو رسل کو ایونٹ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اینڈی پائی کرافٹ کون ہیں؟
اینڈی پائی کرافٹ زمبابوے کے سابق کرکٹر رہ چکے ہیں جن کا کیریئر مختصر رہا ہے۔ انہوں نے محض تین ٹیسٹ میچز اور 20 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں زمبابوے کی نمائندگی کی تھی۔

ان کے کیرئیر میں ایک یادگار لمحہ اس وقت آیا تھا جب انہوں نے آسٹریلیا کی بی ٹیم کے خلاف 104 رنز اسکور کیے تھے، جس میں شین وارن اور اسٹیو واگ جیسے بڑے نام شامل تھے۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے زمبابوے کی انڈر-19 ٹیم کی کوچنگ سنبھالی، سلیکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں اور مختصر عرصے کے لیے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ بھی رہے۔ تاہم 2003 ورلڈ کپ کے دوران انتخابی تنازعات کی وجہ سے مستعفی ہو گئے۔

اینڈی پائی کرافٹ 2009 سے اب تک 103 ٹیسٹ میچوں میں میچ ریفری کے فرائض انجام دے چکے ہیں، جو انہیں ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں چوتھا سب سے تجربہ کار ریفری بناتا ہے۔

تاہم حالیہ ہونے والے پاک بھارت میچ کے بعد سے ان پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ پی سی بی کے بیان کے مطابق میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ نے آئی سی سی کوڈ آف کنڈکٹ کی کھلی خلاف ورزی سمیت اسپرٹ آف دی گیم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

واضح رہے اتوار کو دبئی میں کھیلے گئے ایشیا کپ کے میچ میں بھارت نے پاکستان کو سات وکٹوں سے شکست دی تھی۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اینڈی پائی کرافٹ میچ ریفری

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا