لاپرواہی سے ڈرائیونگ کیس میں ڈکی بھائی کو وقتی ریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
لاہور:
نیشنل ہائی وے پر بے احتیاطی سے گاڑی چلانے کے مقدمے میں یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی نے لاہور ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کر لی۔
ڈکی بھائی اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے جہاں جسٹس شہباز رضوی نے ان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے پانچ مئی تک حفاظتی ضمانت دے دی، عدالت نے حکم دیا کہ ملزم پانچ مئی تک متعلقہ عدالت میں پیش ہو۔
واضح رہے کہ ڈکی بھائی کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ اسٹیرنگ پر ٹانگ اور پاؤں رکھ کر گاڑی چلا رہا تھا،
موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق ویڈیو سامنے آنے کے بعد ڈکی بھائی کے خلاف موٹروے پولیس نے تھانہ لکسیاں میں مقدمہ درج کرایا
ترجمان موٹر وے پولیس نے بتایا کہ ملزم 200 کلو میٹر سے زائد کی اسپیڈ سے گاڑی چلا رہا تھا۔ ڈکی بھائی کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 279 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ موٹروے پولیس قانون کا بلا تفریق نفاذ کرتی ہے، سوشل میڈیا پر اس طرح کی ویڈیوز کے حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈکی بھائی
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔