ایم ایل اے امین الاسلام نے پہلگام واقعہ کے پیچھے مودی حکومت کا ہاتھ ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا اور اسکا پلوامہ واقعہ سے موازنہ کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈھنگ سے آسام اسمبلی حلقہ سے آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے ایم ایل اے امین الاسلام کو بالآخر ناگون جیل بھیج دیا گیا ہے۔ امین الاسلام کو پہلگام دہشت گردانہ حملے پر مودی حکومت مخالف تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، انہیں منگل کو چار دن کے لئے پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ امین الاسلام کو عدالتی حراست میں ناگاؤں جیل بھیج دیا گیا۔ امین الاسلام کے متنازعہ ریمارکس نے آسام کے سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی ہلچل مچا دی ہے۔ ایم ایل اے امین الاسلام کو 24 اپریل کو پیرامیوٹی میں انکی رہائشگاہ سے گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے بدھ کو ڈھنگ حلقہ میں پنچایت انتخابی مہم کی ریلی میں شرکت کے دوران کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے پر حکومت مخالف تبصرہ کیا تھا۔

ایم ایل اے امین الاسلام کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے پر بی جے پی کی حکومت کے خلاف تبصرہ کرنے پر ناگون پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ایم ایل اے امین الاسلام نے پہلگام واقعہ کے پیچھے مودی حکومت کا ہاتھ ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا اور اس کا پلوامہ واقعہ سے موازنہ کیا تھا۔ سیاسی حلقوں میں کافی تنازعہ ہے اور آسام کے وزیراعلٰی ہمانتا بسوا شرما نے اس معاملے کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایم ایل اے کے خلاف انڈین جسٹس کوڈ (بی این ایس) کی دفعہ 152، 196، 197 (1)، 113 (3)، 352 اور 353 نمبر 347/25 کے تحت ناگون صدر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایم ایل اے امین الاسلام کو ناگون ڈسٹرکٹ اینڈ سترا جج کی عدالت میں پیش کیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔ چار دن کی پولس حراست کے بعد ایم ایل اے امین الاسلام کو ناگون ضلع اور سترا جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں پیش کئے جانے کے بعد ایم ایل اے کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا، ان کے وکیل مطیع الرحمن نے میڈیا کو بتایا۔ عدالت نے ناگون عدالت میں امین الاسلام کی پہلی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کردی اور کہا کہ وہ مستقبل میں ناگون عدالت یا گوہاٹی ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دے سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جیل بھیج دیا گیا مودی حکومت عدالت میں کیا تھا کیا گیا

پڑھیں:

ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا

ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔

یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔

تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں

انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔

ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔

تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔

ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔

تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید

ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا