پہلگام حملے کو مودی حکومت کی سازش بتانے والے ایم ایل اے امین الاسلام کو جیل بھیج دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
ایم ایل اے امین الاسلام نے پہلگام واقعہ کے پیچھے مودی حکومت کا ہاتھ ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا اور اسکا پلوامہ واقعہ سے موازنہ کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ ڈھنگ سے آسام اسمبلی حلقہ سے آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے ایم ایل اے امین الاسلام کو بالآخر ناگون جیل بھیج دیا گیا ہے۔ امین الاسلام کو پہلگام دہشت گردانہ حملے پر مودی حکومت مخالف تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، انہیں منگل کو چار دن کے لئے پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ امین الاسلام کو عدالتی حراست میں ناگاؤں جیل بھیج دیا گیا۔ امین الاسلام کے متنازعہ ریمارکس نے آسام کے سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی ہلچل مچا دی ہے۔ ایم ایل اے امین الاسلام کو 24 اپریل کو پیرامیوٹی میں انکی رہائشگاہ سے گرفتار کیا گیا تھا جب انہوں نے بدھ کو ڈھنگ حلقہ میں پنچایت انتخابی مہم کی ریلی میں شرکت کے دوران کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے پر حکومت مخالف تبصرہ کیا تھا۔
ایم ایل اے امین الاسلام کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے پر بی جے پی کی حکومت کے خلاف تبصرہ کرنے پر ناگون پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ایم ایل اے امین الاسلام نے پہلگام واقعہ کے پیچھے مودی حکومت کا ہاتھ ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا اور اس کا پلوامہ واقعہ سے موازنہ کیا تھا۔ سیاسی حلقوں میں کافی تنازعہ ہے اور آسام کے وزیراعلٰی ہمانتا بسوا شرما نے اس معاملے کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایم ایل اے کے خلاف انڈین جسٹس کوڈ (بی این ایس) کی دفعہ 152، 196، 197 (1)، 113 (3)، 352 اور 353 نمبر 347/25 کے تحت ناگون صدر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ایم ایل اے امین الاسلام کو ناگون ڈسٹرکٹ اینڈ سترا جج کی عدالت میں پیش کیا گیا اور جیل بھیج دیا گیا۔ چار دن کی پولس حراست کے بعد ایم ایل اے امین الاسلام کو ناگون ضلع اور سترا جج کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت میں پیش کئے جانے کے بعد ایم ایل اے کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا، ان کے وکیل مطیع الرحمن نے میڈیا کو بتایا۔ عدالت نے ناگون عدالت میں امین الاسلام کی پہلی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کردی اور کہا کہ وہ مستقبل میں ناگون عدالت یا گوہاٹی ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دے سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جیل بھیج دیا گیا مودی حکومت عدالت میں کیا تھا کیا گیا
پڑھیں:
جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
فرانسیسی حکام کے مطابق امریکی مالیاتی شخصیت اور جنسی جرائم کے مقدمات میں نامزد جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے فرانسیسی ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے پیرس کے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے ہیں۔
69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیر کی شب ان کے اپارٹمنٹ سے ملی، جبکہ حکام نے موت کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین کا خفیہ سوسائیڈ نوٹ منظر عام پر، موت کا وقت ’خود چننے‘ پر اظہار اطمینان
سیاد کی وکیل مینیا عرب-ٹیگرین نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو بتایا کہ ان کے مؤکل کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ذہنی دباؤ، عوامی بدنامی، طویل انتظار اور شدید اضطراب نے بھی ان کی صحت پر منفی اثرات ڈالے۔
Modeling scout Daniel Siad who introduced women to Jeffrey Epstein found dead in Paris pic.twitter.com/zMobl4buzz
— HatsOff (@HatsOffff) July 22, 2026
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر دل کا دورہ موت کی وجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی رائے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایک ای میل میں سیاد نے مبینہ طور پر ایپسٹین کو لکھا تھا کہ وہ بارسلونا میں موجود ہیں اور ان کے پاس آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون موجود ہے جسے وہ بارسلونا یا پیرس میں ماڈلنگ کے شعبے میں متعارف کرانا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین نے ذاتی معاملات کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، بل گیٹس کا انکشاف
اس پر ایپسٹین نے مختصر جواب دیتے ہوئے صرف ’تصویر؟‘ لکھا تھا۔
اپریل 2009 کی ایک مبینہ ای میل میں سیاد نے براتسلاوا میں ماڈلز کی تلاش کے دوران ایک 17 سالہ سلوواک لڑکی کی تصاویر ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔
پیرس کی پروسیکیوٹر لور بیکو کے مطابق انسانی اسمگلنگ اور فراڈ سے متعلق فروری میں شروع ہونے والی تحقیقات کے بعد اب تک کم از کم 24 خواتین ایسی سامنے آ چکی ہیں جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مبینہ جرائم کے حوالے سے خود کو متاثرہ یا گواہ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے شوہر نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سفر کیا؟
سیاد کی وکیل کا کہنا ہے کہ اگرچہ تفتیش کاروں نے ان سے متعلق تحقیقات کیں، لیکن فوری گرفتاری کے لیے کافی شواہد موجود نہیں تھے۔
’یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ڈینیئل سیاد کے خلاف کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالتی کارروائی میں باضابطہ طور پر نامزد کیا گیا۔‘
واضح رہے کہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین 2019 میں وفاقی تحویل کے دوران مردہ پائے گئے تھے، جبکہ ان کی موت کو سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس معاملے پر مختلف سوالات اور قیاس آرائیاں آج بھی جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا انسانی اسمگلنگ بارسلونا پوسٹ مارٹم جنسی جرائم جیفری ایپسٹین خودکشی ڈینیئل سیاد ماڈلنگ اسکاؤٹ