پشاور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔یکم مئی ۔2025 )وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے 36 ارب کے مبینہ کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ضلع کوہستان میں ترقیاتی منصوبوں کی رقم نجی بینک اکاﺅنٹس میں منتقل کیے جانے کا انکشاف حال ہی میں سامنے آیا ہے . رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں 36 ارب کے مبینہ کرپشن اسکینڈل کا انکشاف ہونے کے بعد وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے تحقیقات کی ہدایت جاری کردی ہے نیب ذرائع کے مطابق ضلع کوہستان میں ترقیاتی منصوبوں کی رقم نجی بینک اکاﺅنٹس میں منتقل کی گئی جبکہ ٹرک ڈرائیور کے بینک اکاﺅنٹ میں بھی 3 ارب روپے کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جس پر اکاﺅنٹ منجمد کردیا گیا ہے.

(جاری ہے)

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکینڈل میں سیاسی شخصیات، اعلیٰ افسران اور ضلعی سی اینڈ ڈبلیو اہلکاروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے نیب ذرائع کے مطابق 2018 سے2024 تک ترقیاتی منصوبوں کی رقم نجی بینک اکاﺅنٹس کے ذریعے نکالی گئی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے مالیاتی اسکینڈل سامنے آنے کے بعد پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے، محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ ٹھیکیداروں کی سیکیورٹی رقم سے محکمہ خزانہ کا کوئی واسطہ نہیں ہے.                                                                                                  

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا انکشاف

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف