مقبوضہ بیت المقدس کے قریب جنگلات میں لگی آگ کے باعث اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
رپورٹ کے مطابق آگ کے پھیلاؤ کی وجہ سے مقبوضہ بیت المقدس کے مغرب میں تقریباََ 19 میل کے فاصلے پر رہائش پذیر لوگ اپنے گھر خالی کرنے پر مجبور ہوگئے اور اسرائیل کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹیلی ویژن نیٹ ورک "چینل 12" کو شہر سے تقریباََ 10 میل دور موجود اپنے اسٹوڈیو سے جاری نشریات بھی روکنا پڑیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس کے قریب جنگلات میں آگ لگنے کی وجہ سے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جنگلات میں آگ لگنے کی وجہ سے تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس کے درمیان موجود شاہراہ کو بند کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے صورتحال کو قومی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی امداد طلب کرلی۔ رپورٹ کے مطابق جنگلات میں لگی آگ پر قابو پانے کے لیے یونان، قبرص، کروشیا اور اٹلی سے فائر فائٹر طیارے بھیجے گئے جبکہ یوکرین، اسپین، فرانس اور کچھ دیگر ممالک بھی امداد بھیجنے کےلیے پُرعزم ہیں۔ جنگلات میں لگنے والی آگ سے لگ بھگ 5 ہزار ایکڑ رقبہ جھلس چکا ہے، تاہم بین الاقوامی امداد سے آگ پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے، تاہم صورتحال پر مکمل قابو پانے کے لیے کوششیں ابھی جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آگ کے پھیلاؤ کی وجہ سے مقبوضہ بیت المقدس کے مغرب میں تقریباََ 19 میل کے فاصلے پر رہائش پذیر لوگ اپنے گھر خالی کرنے پر مجبور ہوگئے اور اسرائیل کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹیلی ویژن نیٹ ورک "چینل 12" کو شہر سے تقریباََ 10 میل دور موجود اپنے اسٹوڈیو سے جاری نشریات بھی روکنا پڑیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صہیونی حکومت کو جنگلات میں آگ لگنے کی وجہ سے ملک میں یومِ آزادی کی تقریبات بھی منسوخ کرنا پڑیں۔ جنگلات میں آگ لگنے کی اصل وجہ فی الحال سامنے نہیں، لیکن اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ 18 افراد کو آگ بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
جنگلات میں لگی آگ سے زخمی ہونے والے کم از کم ایک درجن افراد کو اسپتال میں داخل کروایا گیا ہے، جبکہ 10 زخمیوں کو طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مقبوضہ بیت المقدس کے ضلعی فائر ڈپارٹمنٹ کے کمانڈر شمولک فریڈمین کا کہنا ہے کہ یہ شاید اسرائیل کی اب تک کی تاریخ کی سب سے بدترین اور خوفناک آگ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مقبوضہ بیت المقدس کے رپورٹ کے مطابق کی وجہ سے گیا ہے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔