Express News:
2026-06-03@04:15:54 GMT

اسمگلنگ سے ملک کو سالانہ 3 کھرب 40 ارب روپے کا نقصان

اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT

اسلام آباد:

پاکستان کو اسمگلنگ کی وجہ سے سالانہ 3 کھرب 40 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے، اس بات کا انکشاف ایک آزاد تحقیقی رپورٹ میں کیا گیا.

رپورٹ کے مطابق 340 ارب کے سالانہ نقصان میں سے 30 فیصد افغان تجارتی راہداری کے ناجائز استعمال کی وجہ سے پہنچ رہا ہے، یہ رپورٹ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اف مارکیٹ اکانومی (پرائم) نے شائع کی ہے.

 

رپورٹ کے مطابق اسمگلنگ اور غیرقانونی تجارت کی وجہ سے ہونے والا نقصان پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے 26 فیصد کے مساوی ہے یعنی ملک کو سالانہ بنیاد پر اس غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ کی وجہ سے 340 ارب روپے ٹیکس محصولات میں کمی کا سامنا ہے.

مزید پڑھیں: انسداد اسمگلنگ کارروائیوں میں 4 کروڑ 83 لاکھ روپے مالیت کی منشیات پکڑی گئی

رپورٹ کے مطابق اس اسمگلنگ اور غیرقانونی تجارت سے ملک کے دیگر کاروبار اور تجارتی اداروں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ حکومت اربوں روپے محصولات کی مد میں نقصان اٹھارہی ہے، رپورٹ کے مطابق ملک میں غیر قانونی طور پر پٹرول کے علاوہ، ادویہ، سگریٹ، صارفین کے استعمال کی اشیا اور دیگر سامان اسمگل کیا جاتا ہے جس کا اثر لامحالہ ملک کے دیگر سیکٹرز کی سالانہ کارکردگی پر پڑرہا ہے.

رپورٹ کا کہنا ہے کہ تمباکو کی اسمگلنگ کی وجہ سے ملک کو 300 ارب روپے سالانہ نقصان کا سامنا ہے جبکہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں ماہ فروری کے دوران محصولات میں کمی کو پورا کرنے کے لیے تمباکو مصنوعات پر عائد ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 150 فیصد کردیا ہے تاکہ اضافی محصولات حاصل ہوسکیں.

مزید پڑھیں: کراچی؛ غیر ملکی کرنسی، جعلی ادویات اور اسمگلنگ میں ملوث 3 ملزمان گرفتار

تاہم اس کے باوجود مارکیٹ میں غیرقانونی سگریٹوں کی دستیابی  30 فیصد سے بڑھ کر 56 فیصد ہوگئی ہے،اسی طرح رپورٹ میں افغان تجارتی راہداری کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ ایک کھرب روپے کا نقصان ہورہا ہے جس کے بعد پاکستان نے گزشتہ ماہ اسمگلنگ کی روک تھام یا اسے کم کرنے کے لیے افغان تجارتی راہداری کے تحت درآمد کی جانے والی اشیا کی شرائط میں کچھ انشورنس ضمانتوں کے تحت نرمی کی ہے.

اسی طرح رپورٹ میں پیٹرول کی اسمگلنگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ملک کو سالانہ 270 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے، رپورٹ کے مطابق سالانہ دو ارب 80 کروڑ لیٹر پیٹرول ایران سے اسمگل کیا جاتا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے فی لیٹر پیٹرول پر 16 روپے کسٹم ڈیوٹی اور پیٹرول ڈیولپمنٹ ٹیکس کی مد میں 78 روپے فی لیٹر عائد کیا گیا ہے جس کی وجہ سے پیٹرول کی اسمگلنگ کا رجحان بڑھتا جارہا ہے.

رپورٹ میں غیررجسٹرڈ معیشت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ ملکی معیشت کے ایک تہائی کے مساوی ہے کیونکہ باقاعدہ کاروباری سیکٹرز کو بلند کسٹم ڈیوٹی، پیچیدہ ٹیرف کے معاملات، مہنگائی اور دیگر عوامل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ملک میں غیر روایتی یا غیر رجسٹرڈ کاروبار کا فروغ بھی بڑھ رہا ہے اور اندازہ ہے کہ یہ اس وقت مجموعی قومی پیداوار کے 40 فیصد کے مساوی ہوگیا ہے.

مزید پڑھیں: کراچی، پولیس اور حساس اداروں نے اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام بنا دی

رپورٹ کے مطابق ملک میں جعلی ادویہ کی اسمگلنگ کی وجہ سے 65 ارب روپے محصولات میں کمی کا سامنا ہے کیونکہ ملک میں دستیاب 40 فیصد ادویہ یا تو جعلی ہیں یا غیرمعیاری ہیں-

اسی طرح گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ٹائرز جو مارکیٹ میں دستیاب ہیں ان میں سے 60 فیصد اسمگل شدہ ہیں جس سے حکومت کو سالانہ 106 ارب روپے محصولات کے نقصان کا سامنا ہے- اسی طرح چائے کی اسمگلنگ کا حجم بھی 30 فیصد تک پہنچ گیا ہے جس سے سالانہ 10 ارب روپے کا نقصان ہوریا ہے.

رپورٹ کے آخر میں غیر قانونی تجارتی انڈیکس کا جائزہ لیا گیا ہے جس کے مطابق 158 ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 101 ہے جو غیر قانونی تجارت سے متاثر ہیں جس کی وجہ کمزور حکومت، اور ناقص معاشی پالیسیاں قرار دی گئی ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ارب روپے کا نقصان اسمگلنگ کی وجہ سے رپورٹ کے مطابق ہے جس کی وجہ سے کا سامنا ہے کی اسمگلنگ اسمگلنگ کا رپورٹ میں کو سالانہ گیا ہے جس ملک میں سے ملک ملک کو

پڑھیں:

سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ

کراچی(نیوزڈیسک) عالمی و ملکی صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر ہوشربا اضافہ ہو گیا۔

آل پاکستان جیمز اینڈجیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق آج پاکستانی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار 600 روپے کا اضافہ ہوا ہے جس بعد ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کا بھاؤ 4 لاکھ 71 ہزار 762 روپے سے بڑھ کر 4 لاکھ 76 ہزار 362 روپے ہو گیا۔

اسی طرح ملکی صرافہ بازاروں میں 24 قیراط کے حامل 10 گرام سونے کے بھاؤ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، پاکستانی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمت 3 ہزار 944 روپے کے اضافے کے بعد 4 لاکھ 4 ہزار 459 روپے سے بڑھ کر 4 لاکھ 8 ہزار 403 روپے پر پہنچ گئی۔

دوسری جانب بین الاقوامی منڈی میں بھی سونا مزید مہنگا ہو گیا، عالمی صرافہ مارکیٹوں میں آج سونے کے نرخوں میں 46 ڈالر فی اونس کا اضافہ ہوا جس کے بعد عالمی صرافہ بازاروں میں فی اونس سونا 4 ہزار 494 ڈالر سے بڑھ کر 4 ہزار 540 ڈالر کا ہو گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 4 ہزار 400 روپے کی بڑی کمی دیکھنے میں آئی تھی جس کے بعد ملکی صرافہ بازاروں میں سونے کا بھاؤ 4 لاکھ 71 ہزار 762 روپے کی سطح پر آگیا تھا۔

مزید پڑھیں۔اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا

متعلقہ مضامین

  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے