کیا یکم اگست سے پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی ہونے والی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
رواں ماہ 15 جولائی کو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 36 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا گیا تھا جس پر عوام کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی حکومت پر سخت تنقید کی گئی تھی، تاہم اب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9 سے 10 روپے فی لیٹر کمی کی بات کی جارہی ہے۔
وی نیوز نے خام تیل کی عالمی قیمت اور ڈالر کے تبادلہ نرخ کا جائزہ لیتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا پیٹرول کی قیمت میں واقعی ایک اور بڑی کمی متوقع ہے؟
مزید پڑھیں: وفاقی وزیر علی پرویز کو پیٹرول کی قیمت میں ’تھوڑا‘ اضافہ کہنا بھاری پڑگیا
حکومت ہر 15 روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا فیصلہ کرتی ہے اور 15 جولائی کو جب آخری بار قیمتوں میں تبدیلی کی گئی تھی تو اس وقت خام تیل کی قیمت 66.
اسی طرح 15 جولائی کو ڈالر کا ریٹ 284.7 روپے تھا، جو اب کم ہوکر 283.19 روپے ہوگیا ہے۔ آئی ایم ایف معاہدے کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم لیوی کو بھی 75 روپے سے مرحلہ وار بڑھا کر 100 روپے کرنا ہے اس لیے یہ بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس مرتبہ ڈھائی سے 5 روپے تک پیٹرولیم لیوی بھی عائد کردی جائے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق، خام تیل کی قیمت میں 4 ڈالر کے بڑے اضافے اور ڈالر کے نرخ میں معمولی کمی کے باعث پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے کی کمی تو ممکن نظر نہیں آرہی، البتہ 2 سے 3 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ متوقع ہے۔ تاہم وزارتِ خزانہ قیمتوں میں کسی قسم کی کمی یا اضافے کا حتمی فیصلہ اوگرا کی سفارش پر 31 جولائی کی شب کرے گی۔
مزید پڑھیں: رات کے اندھیرے میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھانا عوام کی جیبوں پر ڈاکا ہے، نواز شریف کی ویڈیو وائرل
یہ بھی واضح رہے کہ حالیہ بجٹ سے قبل حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے دوران یہ طے کیا تھا کہ آئندہ مالی سال میں پیٹرولیم لیوی کو بتدریج 100 روپے فی لیٹر تک بڑھایا جائے گا، اگرچہ فی الحال مکمل 100 روپے لیوی لاگو نہیں ہوئی، لیکن موجودہ قیمت میں 75 روپے 52 پیسے پیٹرولیم لیوی اور 2 روپے 50 پیسے کلائمیٹ سپورٹ لیوی شامل ہیں، جو صارفین سے وصول کی جا رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیٹرول کی قیمت میں پیٹرولیم لیوی قیمتوں میں فی لیٹر
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔