امریکا پر 36 کھرب ڈالر کا قرض؛ حکومت کی شہریوں سے اتارنے میں مدد کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
امریکی حکومت اپنی سرکاری ویب سائٹ Pay.gov کے ذریعے شہریوں سے اپیل کررہی ہے کہ وہ آن لائن ادائیگی پلیٹ فارم PayPal یا Venmo کے ذریعے قومی قرضہ اتارنے میں حکومت کی مدد کریں۔
امریکا پر قرضہ تقریباً 36.7 کھرب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے۔ محکمہِ خزانہ نے Pay.gov پر Gifts to Reduce the Public Debt کے نام سے ایک سیکشن بنایا ہے جہاں افراد پےپال یا وینمو کے ذریعے کریڈٹ/ڈیبٹ کارڈ یا بینک ٹرانسفر سے رقم دے سکتے ہیں۔
یہ پروگرام 1996 میں شروع ہوا تھا جس کے تحت اب تک لوگ کل 67.
2024 میں شہریوں کی جانب سے حکومت کو قرضہ چکانے کی مد میں تقریباً 27 لاکھ ڈالرز دیے گئے جب کہ 2025 کے پہلے پانچ مہینوں میں تقریباً 434,500 ڈالرز دیے گئے۔
واضح رہے کہ امریکا پر قرضہ چڑھنے کی رفتار انتہائی تیز ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکا پر تقریباً ہر سیکنڈ میں 55,000 ڈالرز کے حساب سے قرض بڑھ رہا ہے۔
ماہر معاشیات متنبہ کر چکے ہیں کہ حکومتی سطح پر اگر فوری ٹھوس اقدامات نہیں کیے گئے تو امریکا بہت جلد ایک مالیاتی بحران کا شکار ہوجائے گا۔
سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے حکومت کے اس اقدام کو ایک مذاق قرار دیا ہے، ایک صارف کا کہنا تھا کہ حکومت ہر شہری کی کمائی سے 40 فیصد تو ویسے ہی ٹیکس اور دیگر پالیسیوں سے ٹھگ لیتی ہے اور اس پر اتنی جرات کہ قرضہ اتارنے کیلئے بھی شہریوں سے مدد کرنے کا کہا جارہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکا پر
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔