ایشیا کپ، کس کھلاڑی نے ایونٹ کی انعامی رقم سے بھی 8 گنا مہنگی گھڑی پہنی؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
ایشیا کپ متحدہ عرب امارات میں شروع ہوچکا ہے جہاں بھارت نے کپتان سوریہ کمار یادو کی قیادت میں میزبان ٹیم اور پاکستان کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں۔
تاہم متحدہ عرب امارات میچ سے پہلے ہونے والے ٹریننگ سیشنز میں سب کی توجہ بھارتی کھلاڑی ہاردک پانڈیا کی انتہائی قیمتی گھڑی نے اپنی جانب کھینچ لی۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی آل راؤنڈر نے ریچرڈ میل RM 27-04 ماڈل کی گھڑی پہن رکھی تھی جس کی قیمت تقریباً 23 لاکھ امریکی ڈالر (تقریباً 64 کروڑ پاکستانی روپے) بتائی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: کیا آپ کو معلوم ہے پاکستان کی پہلی تربیت یافتہ خاتون گھڑی ساز کون ہیں؟
یہ گھڑی ایشیا کپ کے فاتح کو ملنے والی انعامی رقم سے 8 گنا زیادہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹورنامنٹ کے فاتح کو 3 لاکھ امریکی ڈالر جبکہ رنر اپ کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر دیے جائیں گے۔
Back to business ???????? pic.
— hardik pandya (@hardikpandya7) September 6, 2025
ہاردک پانڈیا اپنی لگژری لائف اسٹائل اور فیشن اسٹائل کے باعث اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ اس بار وہ ریچرڈ میل کی محدود ایڈیشن کی گھڑی پہنے نظر آئے۔ واضح رہے کہ اس قسم کی دنیا بھر میں صرف 50 گھڑیاں دستیاب ہیں۔
اس کے علاوہ بھارتی آل راؤنڈر نئے روپ میں بھی دکھائی دیے، انہوں نے اپنے بالوں کو ہلکا سنہری رنگ دیا ہوا تھا اور سوشل میڈیا پر مداحوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ ایشیا کپ کے لیے ’واپس بزنس میں‘ آ گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔